خطبات محمود (جلد 14) — Page 93
خطبات محمود ۹۳ سال ۱۹۳۳ء رائے صحیح نکلتی ہے۔اس زمانہ کے مامور کیلئے بھی خدا تعالی کی طرف سے یہی مقدر ہے کہ اس کی جماعت بڑھے۔اگر دشمن شور مچاتا ہے تو نوح کے زمانہ میں بھی اس نے یہی کیا تھا۔ابراہیم کے زمانہ میں بھی اس نے یہی کیا تھا۔موسی ، عیسی اور محمد مصطفی ﷺ کے زمانہ میں بھی اس نے یہی کیا تھا۔یہ منہ جو تم دیکھ رہے ہو، یہ نہیں بولتے بلکہ وہی بول رہے ہیں جو پہلے انبیاء کے زمانہ میں تھے۔اگر یہ اور ہوتے تو ان کو کیا پتہ تھا کہ پہلے انبیاء کے مخالفین بھی یہی کچھ کہتے رہے ہیں۔پس یہ جو تمہارے بھائی، رشتہ دار، محلہ والے اور شہر والے کہتے ہیں، یہ دراصل وہی ہیں جو پہلے انبیاء کے زمانہ میں تھے۔یہ اگر اور ہوتے تو ان کو کیا پتہ تھا کہ پہلے انبیاء کے مخالف کیا کہتے تھے۔اور بولتا دراصل شیطان ہے۔اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ صرف ڈراتے ہیں۔یہ شیطان کی تخویف ہے جو وہ ہمیشہ کرتا رہا ہے۔مگر کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کبھی خدا کے پہلوان گر گئے ہوں اور شیطان غالب آگیا ہو۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی آواز ہی اونچی رہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی بیداری کیلئے دو چیزیں رکھی ہیں۔ایک دل کی آواز ہے اور ایک باہر کی۔اندر کی بیداری اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور باہر کی بیداری کیلئے چونکہ جھنجوڑنا ضروری ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے پیارے کو خود تکلیف نہیں دینا چاہتا، اس لئے یہ اس نے شیطان کے ذمہ رکھی ہے۔وہ کالے کتے کو چھوڑ دیتا ہے جو کاٹتا ہے اور انسان جاگ اٹھتا ہے۔پس یہ آوازیں جگانے کیلئے ہیں اور یہ بیداری تکلیف کی چیز نہیں کہ ہم اس سے گھبرائیں بلکہ یہ ترقیات کا موجب ہے۔اس لئے ان چیزوں سے کبھی مت گھبراؤ یہ آواز اگر اللہ تعالی کی طرف سے ہے تو اس کے نتائج بھی اچھے ہوں گے۔جس کے پاس حقیقی علم ہو وہ ان باتوں سے کیسے گھبرا سکتا ہے۔ظاہری سامانوں کو تو فلسفی بھی نہیں مانتا جس کی بنیاد ظاہر پر ہے، پھر مذہب اسے کس طرح مان سکتا ہے۔جب اس نے ترک کردیا جس کی بنیاد ہی اس پر تھی تو وہ جس کی بنیاد باطن پر ہے، وہ کیسے مان سکتا اسے ہے۔پس یاد رکھو کہ سب چیزیں اللہ تعالٰی کے اختیار میں ہیں، وہ جس طرح چاہے ان سے کام لے سکتا ہے۔انسان اگر آنکھوں پر سُرخ عینک لگالے تو ہر چیز اسے سرخ نظر آئے گی۔اور اگر سبز لگالے تو ہر چیز سبز نظر آئے گی۔گویا نظر عینک کا رنگ اختیار کرلیتی ہے۔یہی حال دنیا کا ہے اللہ تعالی جو رنگ اسے دینا چاہے وہ اختیار کرلیتی ہے۔نظر تو عینک کا رنگ اختیار کرلیتی ہے