خطبات محمود (جلد 14) — Page 236
خطبات محمود FFY سال ۱۹۳۳ء خطرناک بات ہے۔بعض دفعہ جب دل میں کچی واقع ہو جائے تو کس طرح انسان کا قدم صداقت سے پھر جاتا ہے۔مگر صفوں کا سیدھا رکھنا کتنی معمولی بات ہے۔اسی طرح رسول کریم ا اس لیے ایک دفعہ ان انعامات کا ذکر فرمارہے تھے۔جن کا اللہ تعالی نے آپ کی ذات سے وعدہ فرمایا تھا۔ایک صحابی کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ دعا کیجئے میں بھی آپ کے ساتھ رہوں۔آپ نے فرمایا۔ہاں خدا نے تمہاری اس خواہش کو قبول فرمایا۔پھر ایک اور صحابی اُٹھ کھڑا ہوا۔اور اس نے کہا یا رسول اللہ میں بھی آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا اب نہیں وہ دعا تو پہلا شخص لے گیا تھے۔اس کی ادا اللہ تعالی کو ایسی بھائی کہ وہ بات جو رسول کریم ﷺ کو کتنی قربانیوں کے بدلے حاصل ہوئی تھی۔اسے محض ایک فقرے سے حاصل ہو گئی۔تو چھوٹے بڑے کیلئے کوئی معین قانون نہیں۔یہ بات انسان کا دل ہی جانتا ہے کہ کونسی چیز بڑی ہے اور کون سی چھوٹی۔یا پھر بعض اوقات سے اس کا تعلق ہوتا ہے۔پس اس بحث میں پڑنا انسان کو ایسی اُلجھن میں ڈال دیتا ہے جو کبھی حل نہیں ہو سکتی۔یہی چھوٹی بات جس کے متعلق "انقلاب" کہتا ہے کہ کیا ہے۔معمولی سا امر ہے۔اس چھوٹی سی بات کیلئے ہمارے پانچ آدمی کابل میں سنگسار کئے گئے۔تم کابل کے مولویوں سے پوچھو کہ کیا یہ چھوٹی سی بات تھی۔جس کے بدلے پانچ مومنوں کو سینکڑوں مولویوں کی تصدیق اور ان سے فتویٰ لینے کے بعد شہید کر دیا گیا۔خدا کے حضور وہ کیا کہیں گے کہ ایسی معمولی چیز جس کی تبلیغ بھی درست نہیں، اس کیلئے پانچ شخصوں کو سنگسار کر دیا گیا اور سنگسار بھی معمولی طریق سے نہیں بلکہ حکومت کے محکمہ قضاء نے علماء کے فتویٰ کے بعد جس پر سینکڑوں مولویوں کے دستخط تھے ، سنگسار کیا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ سارا افغانستان اس کا ذمہ دار ہے۔چھوٹی سی تھی تو افغانستان والوں پر کتنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اور کس طرح یہ سارے افغانستان کو جہنمی بنا دیتا ہے۔کیونکہ قرآن کریم میں خداتعالی فرماتا ہے کہ مومن کی جان لینے والا جہنمی ہوتا ہے۔پس وہی چیز جو دفتر انقلاب کے نزدیک بالکل چھوٹی ہے، کابل میں بہت بڑی ہو جاتی ہے۔پھر یہی چھوٹی چیز لاہور میں ہی زمیندار کے دفتر میں بہت بڑی بن جاتی ہے۔اور وہاں سے ہم یہ سنتے ہیں کہ تیرہ سو سال میں اسلام میں اس سے بڑا فتنہ پیدا نہیں ہوا۔جب اس سے بڑا فتنہ تیرہ سو سال میں ظاہر نہیں ہوا تو پھر یہ بات چھوٹی کہاں ہوئی ، بڑی ہوئی۔مگر بہر حال میں سمجھتا ہوں اس بحث میں پڑنا فضول ہے کیونکہ چیز وہی ہے۔انقلاب والے بات