خطبات محمود (جلد 14) — Page 235
سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود ۲۳۵ کی ہوں گی۔اسی طرح جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اس کا حق ہے۔کہ کسے یوں کرو اور یوں نہ کرو۔اگر کسی بات کی وجہ ہماری سمجھ میں نہ آئے تو یہ ہماری غلطی ہو گی۔یہ نہیں کہ وہ بات غلط ہو۔اسی طرح ڈاڑھی رکھنے کی وجہ کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔چونکہ محمد نے حکم دیا ہے اس لئے رکھنی چاہیے۔فوائد یا عدم فوائد کا سوال نہیں بلکہ محمد ﷺ کی اطاعت اور عدم اطاعت کا سوال ہے۔اور آپ کی اطاعت کے ساتھ روحانیت کا بہت بڑا تعلق ہے۔مشه ، پس تمام امور نسبتی ہوتے ہیں۔بعض جگہ چھوٹی چیزیں بڑی بن جاتی ہیں اور بعض جگہ بڑی چیزیں چھوٹی بن جاتی ہیں۔رسول کریم ﷺ ایک دفعہ مجلس میں تقریر فرمارہے تھے۔جب تقریر ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا۔اللہ تعالٰی نے مجھے ایک بات بتائی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اس مجلس میں تین شخص آئے۔ایک نے دیکھا کہ جگہ بھری ہوئی ہے اور بیٹھنے کیلئے گنجائش نہیں، وہ واپس چلا گیا۔اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا۔جس طرح اس نے اس مجلس۔پھیرا، اسی طرح میں نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔وہ گھر سے تو اسی ارادہ سے آیا تھا کہ رسول کریم کی مجلس میں بیٹھے۔مگر چونکہ واپس چلا گیا اس لئے اللہ تعالی نے اس سے منہ پھیر لیا۔کتنی چھوٹی سی بات تھی اور کتنا اہم نتیجہ رونما ہوا۔پھر فرمایا ایک اور شخص آیا۔اس نے بھی دیکھا کہ مجلس بھری ہوئی ہے۔مگر اسے واپس جانے میں شرم محسوس ہوئی اور وہ ان کنارے پر ہی بیٹھ گیا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا جس طرح یہ شخص واپس جانے سے شرمایا، اسی طرح میں بھی اس کے گناہوں کی گرفت سے شرماؤں گا۔کتنا چھوٹا سا فعل تھا مگر اس کا نتیجہ کتنا اہم نکلا۔پھر فرمایا مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ ایک تیسرا شخص آیا اس نے بھی دیکھا کہ مجلس بھری ہوئی ہے لیکن اس نے تاڑ رکھی اور جب اسے ذرا بھی آگے جگہ معلوم ہوئی تو وہ کودتا پھاند تا آگے بڑھا اور قریب ہو کر بیٹھ گیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔جس طرح یہ میرے رسول کی باتیں سننے کیلئے آگے بڑھا، اسی طرح میں بھی اسے آگے بڑھاؤں گا اور اپنے قرب کا مقام عطا کروں گا ہے۔کتنا چھوٹا فعل تھا مگر اس کا نتیجہ کتنا اہم نکلا۔تو چھوٹی بڑی کی بحث عقل کی بات نہیں۔یہ تمام امور نسبتی ہوتے ہیں اور نسبتی امور میں بعض دفعہ نہایت ہی باریک امتیاز کی وجہ سے ایک چھوٹی چیز بڑی ہو جاتی ہے۔اور ایک بڑی چیز چھوٹی۔مثلاً رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ سیدھی رکھو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے ھے۔اب دلوں کا ٹیڑھا ہونا کتنی