خطبات محمود (جلد 13) — Page 45
خطبات محمود ۴۵ سال ۱۹۳۱ء کریں ان کی مثال اس جنگلی بھینسے کی طرح نہ ہو جو ایک دفعہ جب سر اٹھاتا ہے تو جو سامنے آئے اسے مارتا چلا جاتا ہے بلکہ اس جرنیل کی طرح جسے راستہ میں جہاں روک پیدا ہو وہاں نیا اور آسان راستہ اپنے لئے پیدا کر لیتا ہے اگر اس طرح کام کیا جائے تو بہت ترقی ہو سکتی ہے۔ہمارا مرکزی صیغہ تبلیغ بھی اصلاح کا محتاج ہے۔وہ موجودہ مبلغوں سے بھی بہت زیادہ کام لے سکتا ہے اور جماعت سے بھی زیادہ کام کر سکتا ہے مگر نہیں کراتا۔ایک مبلغ باہر جاتا ہے اور آکر رپورٹ دے دیتا ہے کہ میں نے وہاں اتنے گھنٹے تقریر کی اور اس میں یہ باتیں بیان کیں۔اس پر سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس نے بڑا کام کیا لیکن اگر میں اس سینہ کا ناظر ہو تا تو ایسی رپورٹ سن کر فورا اس مبلغ سے کہہ دیتا کہ تم نالائق ہو اور اس صیغہ میں کام کرنے کے اہل نہیں ہو۔تقریر میں زیادہ کر لینا کوئی خوبی کی بات نہیں اور نہ ان کا کوئی مفید نتیجہ نکل سکتا ہے بلکہ زیادہ تقریریں کرنے والا شخص بہت جلد ناکارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ہزاروں لوگوں کو سنانا کوئی آسان کام نہیں۔مگر متواتر ایک دو مہینے تک بڑے بڑے مجمعوں میں تقریریں کی جائیں تو گلا خراب ہو جائے گا اور آئندہ کام کرنے کے قابل نہ رہے گا اس لئے صرف تقریر کر کے آجانے والا مبلغ ہمارے لئے کوئی زیادہ مفید نہیں ہو سکتا اسے تو آکر یہ رپورٹ دینی چاہئے کہ جماعت کی تعلیمی اور اخلاقی حالت کیسی ہے ، کتنے لوگ وہاں کی جماعت کے زیر تبلیغ ہیں ، وہ جماعت کس حد تک کامیابی کے ساتھ تبلیغ کر رہی ہے، اس میں کتنے دوست ست تھے انہیں میں نے چست کرنے کے لئے کیا کوشش کی ، کتنے نئے آدمی جو پہلے کام نہیں کرتے تھے میں نے ان کو کام پر لگایا۔یہ باتیں ہیں جو ہر مبلغ کو جماعت کے متعلق دیکھنی اور کرنی چاہئیں ورنہ تقریر کا کیا ہے اس پر تو زیادہ سے زیادہ ایک دو گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔مگر سمجھا یہ جاتا ہے کہ ہم نے اتنی تقریریں اور اتنے مباحثات کئے اس لئے بڑا کام کیا۔حالانکہ جتنے مباحثات وغیرہ کرائے جاتے ہیں وہ بھی زیادہ ہیں گویا ایک لحاظ سے تو ہم اپنے مبلغین کو ست کر رہے ہیں اور دوسرے لحاظ سے ان کا خون کر رہے ہیں جو کام اس وقت ان سے لیا جا رہا ہے اگر اسی طرح کچھ عرصہ تک متواتر لیا جاتا رہا تو وہ ناکارہ ہو جائیں گے اور جو کام ان سے لینا چاہیئے وہ ضائع ہو جائے گا۔پس سوچ سمجھ کر ان کی تقریروں اور مناظروں کی تعداد مقرر کرنی چاہیئے تا صحت خراب نہ ہو اور اصل کام کو بھی نقصان نہ پہنچے۔اس کے مقابل میں نظام اور آرگنائزیشن کا کام ان سے زیادہ لینا چاہئے ایک مقام پر ایک مبلغ جائے اور آکر وہاں کی جماعت کے متعلق رپورٹ کرے پھر اس کے بعد دوسرا جائے اور دیکھے کہ پہلے نے جو رپورٹ کی