خطبات محمود (جلد 13) — Page 46
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء ہے وہ کس حد تک صحیح ہے اور اس میں کیا ترمیم اور تنسیخ ہونی چاہئے۔وہ مین سال تک اس طرح کام کر کے دیکھو کتنی بیداری پیدا ہو جاتی ہے اس بات کا پورا پورا ریکارڈ ہونا چاہئے کہ فلاں مبلغ فلاں جگہ گیا اور اس نے یہ کام کیا اس کے چند ماہ بعد ایک اور کو وہیں بھیجا جائے جو دیکھے کہ پہلے حالات میں کس قدر تغیر واقعہ ہو گیا ہے۔آیا اس کے بعد جماعت ست ہو گئی ہے یا چست۔اسی طرح ایک دوسرے کے کام کو چیک کر اکر ان سے بہت کام لیا جا سکتا ہے۔اور اس طرح جماعتوں میں بھی بیداری پیدا ہو سکتی ہے۔مگر اب کام صرف تقریریں کرنا ہی سمجھ لیا گیا ہے اس لئے جہاں کوئی مبلغ جائے وہاں سے یہ لکھا آجاتا ہے کہ فلاں مولوی صاحب نے صرف دو گھنٹے تقریر کی ان کا خیال ہو تا ہے ۲۴ گھنٹے ہی تقریر کرنی چاہئے تھی۔مگر انہیں شاید علم نہیں اگر اس طرح کیا جائے تو تھوڑے ہی عرصہ میں اس مبلغ کا جنازہ نکل جائے۔گلا ایسی چیز نہیں جس سے سارا دن کام لیا جاسکے۔ہاتھ پیر وغیرہ ایسے اعضاء ہیں جن سے سارا دن کام لیا جا سکتا ہے مگر گلا اتنی دیر کام نہیں کر سکتا۔عیسائی پادری ہفتہ وار تقریر کرتے ہیں اور وہ بھی پندرہ ہیں منٹ سے زیادہ نہیں۔اگر کبھی وہ ایک گھنٹہ تقریر کر دیں تو سامعین شور مچا دیتے ہیں کہ ہمارا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔تو وہ ہفتہ میں صرف پندرہ بیس منٹ ہی تقریر کرتے ہیں مگر ان کے ہاں ایک بیماری کا نام ہی Clergyman's sore throat ہے یعنی پادریوں کے گلے کی بیماری۔گویا ان کو یہ بیماری اس وجہ سے ہو جاتی ہے کہ وہ ہفتہ میں چند منٹ تقریر کرتے ہیں مگر ہماری جماعت کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے مبلغین کا گلا لو ہے یا لکڑی کا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کم از کم دس بارہ گھنٹے ایک مبلغ بولتا ر ہے حالانکہ وہ جتنا بولتے ہیں میرے نزدیک وہ بھی زیادہ ہے ان سے بولنے کا کام کم اور نظام کا زیادہ لینا چاہئے اگر ہمارا مرکزی صیغہ اس طرح کام کرے تو بہت ترقی ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ ایک اور طریق ہے اس کا بھی تجربہ کر کے فائدہ اٹھانا چاہئے۔جنگ عظیم میں ایک جرمن جنرل میکنسن نے ایک نیا طریق جنگ ایجاد کیا تھا اور اسے اس میں کامیابی بھی بہت ہوئی تھی اور شہرت بھی بہت حاصل کی تھی جس محاذ پر بھی وہ گیا اس نے فتح پائی روسی محاذ پر جرمنوں کو پے در پے شکستیں ہو رہی تھیں مگر اس نے جاکر روسیوں کو ایسی بری طرح شکست دی کہ کئی لاکھ روسی جرمن دلدلوں میں پھنس کر تباہ ہو گئے پھر ا سے رومانی محاذ پر بھیجا گیا وہاں بھی اس نے کامیابی حاصل کی۔پھر آسٹریا جو جرمنی کا حلیف تھا اسے نکستیں ہو رہی تھیں ان کی مدد کے