خطبات محمود (جلد 13) — Page 44
خطبات محمود مهم بوم سال ۱۹۳۱ء ہوئے چھپی تھیں مگر ابھی تک پڑی ہیں اور بعض دس سال سے ختم ہیں اور ہر دوبارہ نہیں چھپ سکیں دونوں لحاظ سے یہ رونے کا مقام ہے۔لیکن باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہماری جماعت میں اضافہ نہیں ہوتا۔ہر سال دس پندرہ ہزار کی زیادتی ہوتی ہے اور یہ اگر چہ کچھ نہیں مگر ہماری کوششوں کے مقابل میں بہت زیادہ ہے۔ہماری کوششیں تو اس قدر حقیر ہیں کہ شاید تو بھی احمدی نہ کر سکیں مگر خد اتعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو بڑھا رہا ہے۔پھر اگر ہم اپنے ارادوں اور امنگوں کو پورا کر سکیں تو کس قدر شاندار منظر ہو مگر یہ نہیں ہو سکتا جب تک ہم میں سے ہر ایک مبلغ نہ ہو ہر ایک کے اندر یہ جوش نہ ہو کہ اپنے ساتھیوں کو احمدی بنائے اگر ہم اس طرح کریں تو سال میں لاکھوں احمدی پیدا کرلیں مگر نقص یہ ہے کہ جماعت کے لوگ اس طرف پوری توجہ نہیں کرتے اور جو متوجہ ہوتے ہیں وہ اصولی طور پر کام نہیں کرتے بعض دوستوں کو میں نے دیکھا ہے دس دس سال ایک شخص کے متعلق لکھتے رہے ہیں وہ ہمارے زیر تبلیغ ہے اس کے لئے دعا کی جائے حالانکہ اتنے عرصہ تک اپنا سارا زور اسی پر صرف نہیں کرتے رہنا چاہئے بلکہ اور لوگوں کو بھی تلاش کر کے تبلیغ کرنی چاہئے۔ایک بڑا نقص یہ پیدا ہو گیا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ سوشل نہیں رہے وہ مدنی الطبع نہیں ہیں دوسروں سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے جہاں جماعت کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے وہاں کو اہو کے بیل کی طرح دوست آپس میں ہی چکر لگاتے رہتے ہیں ایک دوست کے مکان سے اٹھے تو دوسرے کی نشست گاہ پر چلے گئے۔وہاں سے اٹھے تو تیسرے کے ہاں جابیٹھے۔اس طرح آپس میں ہی چکر لگاتے رہتے ہیں اور انہیں تبلیغ کا موقع نہیں ملتا۔یہی وجہ ہے کہ جہاں اسکے رُکتے احمدی ہیں وہاں تبلیغ زیادہ ہے۔مگر جہاں بڑی جماعتیں ہیں وہاں کوئی کام نہیں ہو تا۔مثلاً لاہور سیالکوٹ امرتسر وغیرہ مقامات پر اب کافی جماعتیں ہیں مگر تبلیغ بہت کم ہے۔اگر جماعتیں ایسا انتظام کریں کہ ایک رجسٹر میں تمام احباب جماعت کے نام لکھیں اور ہر ایک کے ذمہ لگائیں کہ وہ کم سے کم دس پندرہ لوگوں سے دوستانہ تعلقات پیدا کرے اور انہیں تبلیغ کرتا رہے پھر ان کے کام کی رفتار کو با قاعدہ دیکھا جائے اور ہر سال ان میں سے غیر موزوں لوگوں کو چھوڑ کر ان کی جگہ اور نئے دوست بنائے جائیں تو چند سالوں میں ہی ایسی ترقی ہو سکتی ہے جو حیرت انگیز ہو اور جس کے مقابلہ میں ہمارے مخالفین اس طرح بہتے چلے جائیں گے جس طرح دریا کے سامنے خس و۔خاشاک بہہ جاتا ہے۔مگر ضرورت ہے کہ جماعتیں خاص طور پر باقاعدہ اصول کے ماتحت تبلیغ