خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 262

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء ہے تو بری طرح فیل ہو جاتی ہے۔متواتر تین چار بار میں نے اس کا تجربہ کیا ہے اور ہمیشہ دیکھا ہے کہ ایسی خطرناک شکست ہوئی ہے کہ جس کی حد نہیں۔جتنا کام ہو سب کا سب مجھے ہی مرکز میں کرانا پڑتا ہے اور باقی جماعتیں چپ چاپ اس طرح علیحدہ رہ کر دیکھتی رہتی ہیں جیسے کوئی دودھ کا برتن زمین پر گرا کر اس کی طرف کھڑا ہو کر دیکھنے لگ جائے۔جب بھی کوئی اس قسم کی تحریک کی جائے دوست کہتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا کس طرح کریں۔یہی وجہ ہے کہ جماعت کی تکمیل کے وہ پہلو ظاہر نہیں ہوتے جن کے متعلق قابلیت خدا تعالیٰ نے رکھی ہے بلکہ ایسی تحریکات کے وقت بعض تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں اس سے کیا کام ہے اور ایسے کاموں سے ہماری جماعت یا روحانیت کو کیا تعلق ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ رسول کریم میں ایک اعلیٰ درجہ کے جرنیل بھی تھے اور یہ آپ کی بہت بڑی خوبی اور آپ کے کمال کا ثبوت ہے۔ایسے لوگوں کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کسی نے گودنے والے سے کہا تھا میرے بازو پر شیر گود دو۔اس نے جب سوئی چھوٹی اور درد ہوا تو کہنے لگا کیا بنانے لگے ہو۔اس نے کہا دایاں کان۔کہنے لگا کیا دائیں کان کے بغیر شیر نہیں ہو سکتا۔اس نے جواب دیا ہو تو سکتا ہے۔اس نے کہا تو پھرا سے چھوڑو آگے چلو۔پھر اس نے بایاں کان شروع کیا۔تو پھر اس نے اسی طرح کہا حتی کہ سارا دھر غائب ہو گیا۔اصل بات یہ ہے کہ ہر چیز کو الگ الگ کرنے سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کیا اچھا جرنیل نبی ہوتا ہے تو میں کہوں گا یہ ضروری نہیں لیکن کامل نبی کے لئے اچھا جرنیل ہونا ضروری ہے۔اسی طرح اعلیٰ درجہ کا قاضی ضروری نہیں کہ نبی ہو کافر بھی اچھے اچھے حج ہوتے ہیں کئی ہندو اور عیسائی حج ایسے مشہور ہیں جنہوں نے واقعی دیانتداری کے ساتھ صحیح فیصلے کرنے میں عمر گزار دی۔تو ہر اچھا قاضی نبی بے شک نہیں ہو سکتا لیکن نبی کے لئے اچھا قاضی ہونا شرط ہے۔بعض معترض کہتے ہیں کہ صرف ان کاموں کے کرنے سے انسان نیک نہیں ہو سکتا۔بات بے شک صحیح ہے لیکن نیک بننے کے لئے ضروری ہے کہ انسان ساری نیکیاں اپنے اندر جمع کرے۔پس ایک لمبے تجربہ اور دکھ کے احساس کے بعد میں یہ کہنے پر مجبور ہوا ہوں کہ ہماری جماعت کو چاہئے اس بھیڑ چال کی زندگی کو ترک کر دے۔ماہرین علم النفس نے تجربہ کیا ہے کہ اگر کسی جگہ فٹ سوافٹ اونچی رہی لگا کر دو چار بھیٹروں کو اسکے اوپر سے گذارا جائے اور بعد میں اس رسی کو ہٹا لیا جائے تو باقی سب بھیڑیں جب وہاں پہنچیں گی ضرور کود کر گذریں گی۔یہ زندگی کوئی