خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 263

خطبات محمود ۲۶۳ خوش کن زندگی نہیں کہ ایک ہی طریق پر انسان اندھا دھند چلے۔اگر کوئی دوست کسی خاص کام میں ایکسپرٹ بننا چاہے تو یہ اور بات ہے۔مثلاً کوئی کہے کہ میں تبلیغ میں ایکسپرٹ ہونا چاہتا ہوں یا چندہ کی فراہمی میں کمال حاصل کرنا چاہتا ہوں اور یہ ثابت بھی ہو جائے کہ وہ واقعی اس کی کوشش کر رہا ہے تو وہ معذور ہے اور جماعتوں کی ترقی کے لئے ماہرین کی بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن باقی لوگوں کو ہر خوبی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مگر عام طور پر معترضین ماہر بننے کے خواہش مند نہیں ہوتے بلکہ جس کام پر وہ زیادہ زور دیتے ہیں اگر تحقیق کی جائے تو شاید وہ سب سے کم وقت اس کے لئے دینے والے ثابت ہوں گے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جو بات بھی پیش کی جائے کہہ دیتے ہیں اس سے ہماری جماعت کا کیا تعلق۔مثلا اگر تعلیم کی طرف توجہ کی جائے تو وہ کہہ دیں گے اس پر وقت اور روپیہ خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہمارا اصل کام تبلیغ ہے لیکن اگر تحقیق کی جائے تو معلوم ہو گا کہ تبلیغ پر وہ چومیں گھنٹوں میں سے پندرہ منٹ بھی صرف نہیں کرتے ہوں گے۔بات صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ بہانے بنا کر بچنا چاہتے ہیں۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ دنیا کے سب اچھے کاموں میں حصہ لینے کی کوشش کرے۔انہیں چاہئے Hermits اور متصوفین والی زندگی کو ترک کر کے ایسے مرد میدان بنہیں کہ ہر کام میں دنیا کے لئے نمونہ ہوں اور ان کی فضیلت کو ہر شخص محسوس کرے۔ہر وقت چوکس اور چوکنے رہیں اور ان کی مثال ویسی ہی ہو جیسی کسی تابعی نے تقویٰ کی تعریف کی تھی کہ کانٹوں والے رستہ سے ڈھیلا ڈھالا لباس سلامت لے کر نکل جائیں۔اگر سب دنیا کو چھوڑ کر ایک محدود دائرہ قائم کر لیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ بس چندے دے کر نماز میں پڑھ کر ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا تو یہ اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے لیکن خدا کو کوئی شخص دھوکا نہیں دے سکتا۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ دین کے مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے اندر تبدیلی پیدا کر سکیں اور نیکی کے ہر میدان کے مرد ثابت ہوں۔خداتعالے ہمیں کامیاب کرے۔(آمین) (الفضل یکم اکتوبر ۱۹۳۱ء)