خطبات محمود (جلد 13) — Page 261
۲۶۱ سال ۱۹۳۱ء نہیں سمجھتے۔انہوں نے اپنے رشتہ داروں تک سے قطع تعلق کر رکھا ہے اور بالکل الگ تھلگ رہتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں ہم نے دین کے لئے بڑی قربانی کی ہے حالانکہ نیک نہیں بلکہ وہ بزدل ہیں۔ان کے رشتہ دار اور دوست اعتراض کرتے تھے اور یہ جواب نہ دے سکتے تھے۔یا انہیں غصہ آجا تا تھا اس لئے ان سے ملنا جلنا ترک کر دیا۔اور یہ کوئی خوبی نہیں بلکہ بزدلی اور کمزوری ہے۔اگر وہ ان سے ملتے جلتے اور ان کے کاموں میں شریک ہوتے جن میں وہ ہو سکتے تھے تو یہ بہت زیادہ نیکی تھی۔عربی تاریخ میں ایک انجمن کا ذکر آتا ہے جس میں شامل ہونے والوں میں سے اکثر کے ناموں میں فضل آتا تھا اور اس وجہ سے اسے حلف الفضول کہنے لگ گئے تھے۔اس کے ممبروں کا باہمی معاہدہ یہ تھا کہ اگر کسی پر ظلم ہو تو وہ مظلوم کی حمایت کریں گے اور اس کا حق اسے ولا ئیں گے۔رسول کریم میں تو اللہ بھی اس میں شامل تھے۔آپ سے کسی صحابی نے دریافت کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات تھی اور کیا آپ بھی اس میں شامل تھے۔آپ نے فرمایا ہاں اگر کفار آج بھی کسی اس قسم کے معاہدہ میں شامل ہونے کے لئے بلائیں تو میں شامل ہو جاؤں گا حالانکہ اس وقت آپ نبوت کے مقام پر فائز تھے۔تو مومن سارے پہلوؤں کو مد نظر رکھتا ہے۔وہ غریبوں کی خبر گیری بھی کرتا ہے، رشتہ دارووں اور دوستوں سے بھی اس حد تک تعلقات رکھتا ہے جس حد تک شریعت اجازت دے ، چندہ بھی ادا کرتا ہے ، نمازیں بھی باقاعدہ پڑھتا ہے عیسائیوں میں ایسی سوسائٹیاں ہیں کہ جہاں فساد ہو اس کے ممبر فور اوہاں پہنچ جاتے ہیں۔پھر وہ بیماروں کی تیمار داری کرتے ہیں، آوارہ گرد بچوں کی نگرانی کرتے ہیں اور قیموں کی پرورش کا بار اٹھاتے ہیں۔یہ سارے کام اچھے ہیں اگر ان سب کو چھوڑ کر کوئی صرف چندہ ادا کر دینا ہی کافی سمجھ لے تو اس سے زیادہ بے وقوف اور اپنی جان کا دشمن اور کون ہو سکتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ ہر شخص محمد میں ایلی نہیں بن سکتا مگر کوشش تو ہر ایک کو کرنی چاہئے آگے وہ جو کچھ بن جائے بن جائے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہنا اور کوشش نہ کرنا اپنی تباہی کے مترادف ہے۔مجھے تعجب ہے کہ رسول کریم میہ کے کامل ہونے کے ثبوت میں جب ہم آپکی دینی و دنیاوی ہر قسم کی خوبیاں پیش کرتے ہیں۔جرنیل ہونا کوئی دینی کام نہیں بلکہ دنیوی ہے مگر روحانی تکمیل کے لئے اس خوبی کو بھی ہم پیش کرتے ہیں۔پھر رفاہ عام کے کاموں میں حصہ لئے بغیر تکمیل نہیں مانتے تو پھر خود ایک دو نیکیاں کر کے مطمئن ہو کر بیٹھ رہنا کہاں تک درست ہے۔پس کوشش کرو کہ ہر قسم کے نیک کاموں میں حصہ لے سکو۔میں نے دیکھا ہے اگر ہماری جماعت کسی ایسے کام میں پڑے جو دوسروں کے ساتھ مل کر کیا جاتا