خطبات محمود (جلد 13) — Page 483
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء ہوں۔ممکن ہے اس میں غلطی ہو بدظنی کرنا میری عادت نہیں۔ممکن ہے بد ظنی ہو۔بہر حال میری رائے یہی ہے اور جب تک اس میں تبدیلی نہ ہو میں اس پر قائم رہوں گا۔میرے نزدیک خود مدرس اصل مقصد کو نہیں سمجھتے یا شاید سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتے۔یہ بات متواتر میرے کان میں پڑی ہے کہ اساتذہ کی طرف سے طالب علموں کو کہا جاتا ہے کہ اگر دینی مضامین کی طرف زیادہ توجہ کرو گے تو پڑھائی میں حرج ہو گا۔میں نے وہ ریکارڈ پڑھے ہیں جن میں مجلس مشاورت کے نمائندوں اور مدرسوں میں بحث ہوئی ہے کہ دینیات میں لازمی طور پر پاس ہونے کی شرط رکھنا تعلیم کے لئے نقصان دہ ہے۔اور جب استادوں کا یہ خیال ہو بلکہ وہ طالب علموں کو ہم خیال بنانے کی کوشش کرتے ہوں اور کہتے ہوں کہ خواہ قاعدہ کچھ ہو تم دوسرے مضامین میں پاس ہونے کی کوشش کرو - دینیات میں اگر فیل بھی ہو جاؤ گے تو دیکھا جائے گا تو طالب علم اگر دینیات سے غافل ہوں تو اس میں ان کا کیا قصور ہے۔اگر پرانے ریکارڈ دیکھے جائیں تو معلوم ہو گا کہ کوشش یہ رہی ہے کہ دینی کتب میں کمی کر دی جائے۔نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ سوائے ان فوائد کے جو قادیان میں رہنے کے ساتھ وابستہ ہیں۔جس مقام پر اللہ تعالیٰ کا نور نازل ہو رہا ہو وہاں بغیر انسانوں کے توسط کے بھی بعض فضل نازل ہوتے ہیں۔اس زمانہ میں یہاں اللہ تعالیٰ کا نور نازل ہوا ہے۔اس لئے جو یہاں رہتا ہے خواہ اسے تعلیم ہو یا نہ ہو اس سے فائدہ اٹھائے گا۔بشرطیکہ نفاق اس کے اندر نہ ہو۔مکه و مدینہ میں رہنے والوں کی روحانی حالت اس وقت گری ہوئی ہے لیکن اگر وہاں رہنے والے انسانوں سے آنکھیں بند کر لی جائیں تو انسان ان مقامات سے بے شمار روحانی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔جو لوگ وہاں جاکر انسانوں پر نگاہ رکھتے ہیں وہ ایمان کی بجائے بے ایمانی لے کر آتے ہیں۔بہت سے لوگ حج کے بعد نمازوں کی لذت سے محروم ہو جاتے ہیں۔میں جب حج پر گیا تو میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ سے تو ایک نور نکل رہا ہے لیکن وہاں کے لوگوں سے خطر ناک قسم کی تاریکی نکلتی ہے۔ایک دوست میرے پاس آئے اور کہنے لگے حج کے متعلق ایک مخفی بات کہتا ہوں۔میں سمجھ گیا میں نے پوچھا کہ کیا تمہاری روحانیت میں تو کمی نہیں آرہی۔انہوں نے کہا یہی بات ہے۔میں نے سمجھایا کہ یہاں کے انسانوں پر نگاہ نہ رکھو۔انہوں نے میری نصائح سے فائدہ اٹھایا اور ان کی قبض دور ہو گئی۔اسی طرح جو لوگ یہاں منافقت لے کر آتے ہیں ان کا ذکر نہیں۔مگروہ جو خدا کی طرف دیکھتا ہے وہ جب بھی یہاں آئے گا بغیر کسی کے توسط کے بھی وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو