خطبات محمود (جلد 13) — Page 482
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء وقت ہماری جماعت کے دوستوں کی مثال اس جھولے کی سی ہے جو میلوں پر لگایا جاتا ہے۔جب اسکا ایک سرا نیچے جاتا ہے تو دوسرا اوپر کو اٹھ جاتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگ کبھی وسطی مقام قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔اور بسا اوقات میں کسی چیز کے متعلق اپنی رائے اس لئے بیان نہیں کر تا کہ جماعت کی حالت ابھی بچوں کی سی ہے۔اگر کوئی نقصان بیان کیا جائے تو کہہ اٹھیں گے یونسی مال برباد ہو رہا ہے۔اور اگر کوئی خوبی بیان کر دوں تو کہیں گے بھلا کوئی عیب ہو سکتا ہے کوئی کالا داغ تک نہیں اور اس لئے کہ بعض کے لئے اس رنگ میں ٹھوکر کا موجب نہ ہو جاؤں۔بسا اوقات میں اپنی رائے کو مخفی رکھتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں ہر عظمند خلیفہ جس نے ربانی ہونے کا مقام حاصل کیا ہو ایسی ہی احتیاط کرے گا جب تک کہ جماعت میں بلوغت نہ آجائے اپنے ایسے خیالات کو اپنے تک ہی محدود رکھے گا۔اس جذبہ کے ماتحت بہت دفعہ میں اپنی رائے کو چھپائے رکھتا ہوں۔وگر نہ اس سکول کے متعلق آج سے بہت پہلے زیادہ وضاحت سے مجھے بیان کر دینا چاہئے تھا اور ایک دفعہ میں نے کچھ بیان بھی کیا تھا۔لیکن مجھے معلوم ہوا کئی لوگ جو اپنے بچوں کو یہاں داخل کرانے کے لئے لائے تھے وہ میری تقریر سن کر واپس لے گئے حالانکہ میرا یہ مطلب ہر گز نہ تھا۔میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ اگر ہمیں سلسلہ کی خاطر اپنی اولادیں قربان کرنی پڑیں تو بھی اس سے دریغ نہ ہونا چاہئے اور اگر انہیں ایسے سکول میں داخل کرانا پڑے جس میں نیل ہو جانے کا امکان زیادہ ہے تو یہ تو کوئی بات ہی نہیں۔ہم آج ابراہیم علیہ السلام کی قربانی پر سر دھنتے ہیں لیکن خود اولاد کی قربانی کے لئے تیار نہیں ہوتے۔آج چھری سے ذبح کرنے کا امتحان تو پیش نہیں آسکتا اس کے مقابلہ میں بہت معمولی امتحان تو پیش ہیں۔جب مجھے معلوم ہوا کہ بعض لوگ اپنے لڑکوں کو واپس لے گئے ہیں تو میں نے سمجھا میں نے غلطی کی۔جن لوگوں کو مخاطب کیا وہ دراصل اس کے اہل نہ تھے۔ممکن ہے اب بھی بعض کو دھوکا لگ جائے اس لئے میں نے یہ تمہید بیان کر دی ہے۔ہر عیب اور خوبی کو اس کی حد کے اندر رکھنا چاہئے اگر ہم ایسا نہ کریں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ ضرور وہ حالت ہو جائے گی جسے انگریزی میں Colour blind کہتے ہیں یعنی کبھی کوئی نیکی یا بدی نظر نہ آئے گی۔رنگ کا نظر نہ آنا بھی ایک بیماری ہے۔میں نے بتایا ہے کہ اس سکول کے قیام کی غرض یہی ہے کہ اسلام اور اس کی حفاظت و اشاعت کے متعلق زبر دست جماعت قائم کی جائے۔اور یہ مقصد کم از کم اس وقت پورا نہیں ہو رہا۔اس کی وجہ جو کچھ بھی ہے میں اسے صفائی سے بیان کر دیتا