خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 484

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء جذب کرے گا اور طالب علم ایسے فضل اور نور کو بہت زیادہ جذب کرتے ہیں کیونکہ ان کے دل کی تختی صاف ہوتی ہے اور دوسرے لوگوں کی طرف سے انکی آنکھ بند ہوتی ہے۔ایسے فضل اور نور کو چھوڑ کر اس سکول میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو کوئی معتد بہ دینی فائدہ حاصل نہیں ہوتا جو باہر نہ ہو سکتا۔بعض لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے بچے جتنا قرآن شریف یا ترجمہ پڑھ کر آئے تھے اس سے زیادہ انہوں نے یہاں نہیں سیکھا۔اور ان کی یہ شکایت بجا ہے مجھ پر بھی یہی اثر ہے کیونکہ عملہ دینیات کی اہمیت کو گرانے اور کم کرنے میں منہمک ہے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ اس طرح وہ دنیوی تعلیم کو اعلیٰ درجہ کی بنا سکیں گے۔مگر ہو تا کیا ہے وہی مثال جو کسی شاعر نے بیان کی ہے کہ ادھر کے ہی نہ وصال صنم رہے رہے نہ ادھر کے نہ ہی وہ دنیوی تعلیم میں کوئی بڑا درجہ حاصل کر سکتے ہیں اور دینی تعلیم کے لئے تو کوشش ہی نہیں کی جاتی۔اس کے بجائے اگر دین کو لے لیا جاتا اور اس پہلو کو ایسا نمایاں کیا جاتا کہ ہر دیکھنے والا تسلیم کر تا کہ اس سکول کے طالب علم دینی معلومات میں عالم کی حیثیت رکھتے ہیں تو کوئی چیز تو ہمارے پاس ہوتی۔اس صورت میں اگر لڑکے لیل بھی ہو جائیں تو غم کی بات نہیں۔کم از کم میرے بچے اگر دین میں ترقی کر جائیں تو ان کی دنیوی ناکامی پر مجھے کوئی غم نہ ہو گا۔لیکن جب دین و دنیا دونوں نہ ملیں تو خوشی کس بات کی ہو سکتی ہے۔میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ پھر بھی اعتراض کریں گے۔مگر میں اس کی کوئی حقیقت نہ سمجھوں گا۔لیکن میرے پاس تو یہاں تک شکایت آئی ہے کہ ایک طالب علم سے اس کے استاد نے قرآن کریم چھین لیا اور کہا کہ امتحان نزدیک ہے ہمیں بد نام کرنا چاہتے ہو۔مجھے انفرادی شکایات کی تحقیقات کی ضرورت نہیں مگر مجموعہ بتاتا ہے کہ نقص موجود ہے۔اس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا کہ طالب علم اسلام کی تعلیم اور نظام کے متعلق اہم ابتدائی باتوں پر اعتراضوں کے جواب بھی نہیں دے سکتے۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ایک طالب علم کو اگر یہ باتیں سکھائی جائیں ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھائی جائیں، حدیث کا کچھ حصہ پڑھایا جائے اور پھر اگر وہ فیل بھی ہو جائے تو اسے خود بھی افسوس نہ ہو گا اور دیندار ماں باپ کو بھی افسوس نہ ہو گا۔اور یہ میں بطور تنزل کہتا ہوں وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا شغف کا ایک طالب علم ۱۲ گھنٹہ پڑھتا رہتا ہے لیکن