خطبات محمود (جلد 13) — Page 43
ما خطبات محمود ۴۳ ۱۹۳۱ء اشاعت ، جلسوں کے انعقاد اور مبلغین پر خرچ ہوتی ہے۔یہ تبلیغی خرچ ہے۔اس میں ہماری جماعت دوسری جماعتوں سے ممتاز ہے۔دوسری قومیں اگر تبلیغ کے لئے کچھ خرچ کرتی ہیں تو سچ کی اشاعت کے لئے نہیں بلکہ جھوٹ پھیلانے کے لئے کرتی ہیں۔نظارت امور عامہ کے کاموں ، بیواؤں اور یتیموں کی حفاظت وغیرہ اخراجات کے لحاظ سے ہم میں اور دوسرے لوگوں میں کوئی فرق نہیں۔یہ اخراجات ہر قوم اپنی ترقی کے لئے کر رہی ہے۔اگر کوئی قوم اپنی بیواؤں کا خیال نہ رکھے گی تو وہ آوارہ ہو جائیں گی اور انہیں غیر لے جائیں گے۔اسی طرح اگر یقیموں کا انتظام نہ کیا جائے گا تو وہ بھی آوارہ ہوں گے یا دوسروں کے قبضے میں چلے جائیں گے یا ساری عمر قوم پر بوجھ بنے رہیں گے۔بھیک مانگتے پھریں گے اور تمام عمر ا نہیں پاس سے کھلانا پڑے گا۔لیکن اگر بچپن میں انہیں کسی کام کے قابل بنا دیا جائے تو وہ قوم کی عزت اور مال میں اضافہ کا موجب ہوں گے۔پس اگر رقم کے لحاظ سے دیکھیں تو ہم تبلیغ پر بہت کم خرچ کر رہے ہیں۔ایک سال یہ تجویز ہوئی تھی کہ ہر سال دس نئے مبلغ رکھے جایا کریں مگر اس پر عمل نہیں کیا جا سکا حالانکہ دنیا کو فتح کرنے والی قوم کے لئے یہ بھی کوئی بات ہے کہ سال میں صرف دس مبلغوں کا اضافہ کرے مگر ہم یہ بھی نہیں کر سکے بمشکل تین رکھ سکتے ہیں اور بعض سالوں میں اتنے بھی نہیں رکھے جاسکتے۔حالانکہ جو کام ہم نے اپنے ذمہ لیا ہے اس کے لحاظ سے تو چاہئے کہ ہر سال تین چار سو مبلغ رکھے جائیں اور کوئی تحصیل تھانہ بلکہ کوئی قصبہ ایسا نہ ہو جہاں ہمارا مبلغ نہ رہے۔یہ کام اگر چہ دین کا ہے مگر ایک لحاظ سے اس میں دنیوی لحاظ سے بھی فائدہ ہے۔جتنی تبلیغ زیادہ ہو گی اتنے احمدی زیادہ ہوں گے۔اور پھر اس لحاظ سے چندوں میں بھی اضافہ ہو گا۔یعنی جتنے اخراجات بڑھیں گے آمد میں بھی اسی لحاظ سے ترقی ہوتی جائے گی۔لیکن ابھی تک تو ہم اتنا بھی نہیں کر سکے کہ ہر سال دس مبلغ ہی رکھ سکیں۔پس تبلیغ کے لئے روپیہ کے لحاظ سے بھی ہماری جدوجہد کم ہے اور آدمیوں اور وقت کے لحاظ سے بھی بہت کم ہے اور علمی لحاظ سے بھی کم ہے۔ابھی تک اتنی علمیت ہماری جماعت میں پیدا نہیں ہوئی اور ایسے سامان مہیا نہیں ہوئے کہ نادر علمی ذخائر جمع کر دیں۔غیر قومیں اس لحاظ سے اس قدر کام کر رہی ہیں جسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔انیس سو سال کے بعد حضرت مسیح ناصری کی زندگی کے حالات آج جمع کئے جارہے ہیں مگر ہم حضرت مسیح موعود کی زندگی کے حالات کی اشاعت کی طرف ابھی متوجہ بھی نہیں ہو سکے جو بالکل تھوڑے عرصہ کی بات ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی کتابوں کی اشاعت نہایت ہی اہم کام ہے مگر آپ کی بعض کتابیں ایسی ہیں جو دس سال