خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 42

خطبات محمود ۴۲ سال ۱۹۳۱ء آرام و آسائش اس سے وابستہ ہے اس کے بغیر حکومت میں اثر و رسوخ حاصل نہیں ہو سکتا، ملازمتیں نہیں مل سکتیں، جتھا نہیں بن سکتا، ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔انہی وجوہات سے تمام قومیں تعلیم پر روپیہ خرچ کرتی ہیں۔ہماری جماعت کو منتقلی کر کے پنجاب میں تعلیم کے لحاظ سے سکھ بڑھے ہوئے ہیں۔مگر کیا وہ تعلیم کو نہ ہی کام سمجھ کر اس میں ترقی کر رہے ہیں اور اس پر خرچ کرتے ہیں۔ہماری ایک معقول رقم جو پچاس ہزار سے بھی زیادہ ہے سالانہ تعلیم پر خرچ ہوتی ہے اور یہ خرچ دینی نہیں بلکہ دنیوی ہے۔اسی طرح کچھ حصہ اخراجات کا غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، قیموں اور دوسرے حاجتمندوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔تین چار ہزار روپیہ تو قادیان کے ہسپتال پر ہی خرچ ہو جاتا ہے۔پھر بیواؤں ، یتیموں اور دوسرے مستحقین پر جو خرچ کئے جاتے ہیں وہ اگر جمع کئے جائیں تو یہ رقم بھی پچاس ساٹھ ہزار کے قریب ہو جائے گی اور یہ خرچ بھی خالص طور پر دین کے لئے نہیں قرار دیا جا سکتا۔اگر ہم زندہ اور ہوشیار قوم ہوتے تو چاہے کوئی مذہب ہو تا یہ رقم ضرور خرچ کرنی پڑتی۔انگریز ، امریکن جر من سب ہی یہ خرچ کرتے ہیں۔سڑکیں بناتے ہیں، ہسپتال جاری کرتے ہیں ، یتیم خانے کھولتے ہیں ، بیواؤں، مسکینوں اور کمزوروں کے لئے انتظامات کرتے ہیں۔پس اس میں بھی ہماری کوئی خصوصیت نہیں اور خرچ ایسا ہی ہے جیسے ایک جیب سے نکال کر دوسری میں ڈال لیا۔یہ خرچ اسلام پر نہیں بلکہ اپنی ذات پر ہی ہم کرتے ہیں۔پس ہمارے سالانہ بجٹ کا تبلیغی خرچ بہت ہی کم ہے۔پھر کچھ حصہ دفتر کے اخراجات چلانے کا چلا جائے گا۔یہ بھی کوئی دینی خرچ نہیں۔مثلاً نظارت امور عامہ ہے یہ اس لئے ہے کہ ہمارے بیٹے بیٹیوں کی شادی بیاہ کا انتظام کرے، بے کاروں کے لئے ملازمتیں تلاش کرے ، جھگڑوں وغیرہ کا تصفیہ کرائے۔پہلے لوگ نائیوں وغیرہ کے ذریعے رشتے ناطوں کا بندو بست کرتے تھے اور ان کو روپے دیتے تھے۔اب یہ کا یہ کام امور عامہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔پھر ہر دیہات میں جھگڑے فساد طے کرنے والے پہنچوں پر خرچ کیا جاتا تھا۔اب وہی کام امور عامہ سرانجام دیتا ہے اور اب احمد کی اپنے اپنے گاؤں میں نائیوں اور پہنچوں پر کوئی خرچ نہیں کرتے وہی خرچ نظارت امور عامہ پر ہو جاتا ہے۔ایک احمدی فخریہ کہتا ہے کہ میں اتنا چندہ دیتا ہوں مگر اس نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ اس میں بڑا حصہ تو انی اخراجات کا ہے جو احمدیوں کے اپنے فوائد اور اغراض کے متعلق ہیں۔اس طرح ہمارے اخراجات میں خالص دینی تبلیغ کا جو حصہ ہے وہ بہت کم ہے جو صرف وہ رقم ہے جو ٹریکٹوں وغیرہ کی