خطبات محمود (جلد 13) — Page 274
خطبات ۲۷۴ 32 سال ۹۳۱ سخت مخالفت کے باوجود جماعت کو آگے بڑھنا چاہئے (فرموده ۶ نومبر ۱۹۳۱ء بمقام لاہور) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے ماحول کو دیکھے۔اگر کوئی شخص اپنے نفس پر یقین رکھتا ہے تو عموماً وہ کامیاب ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ اپنے گردو پیش کے حالات کو اپنی قوت سے زیادہ درجہ دیتا ہے۔تو مایوس ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو حقیر قرار دینے سے اس کی طبیعت میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے جوش پیدا نہیں ہوتا۔انسان کا نفس ہر تعصب سے آزاد اور مطمئن ہونا چاہئے کیونکہ گناہ وہ ہوتا ہے جس کی کھٹک دل میں باقی رہ جاتی ہے۔ہماری جماعت کو اپنے ماحول کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ وہ دو قسم کا ہے اول تو یہ کہ ہم اقلیت میں ہیں اور اقلیت بھی وہ اقلیت جس کی بنیاد جنگ پر ہے بعض اقلیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی بنیاد صلح پر ہوتی ہے۔دنیا میں ایک نذیر آیا۔پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا لے پس جس سچائی کا حامل ہمیں بنایا اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ زور آور حملوں سے پوری ہو۔مسیح نے آکر کہا تھا کہ میں تلوار چلانے کے لئے آیا ہوں صلح کرنے کے لئے نہیں آیا۔باوجودیکہ اس کی تعلیم ایک گال پر تھپڑ کھانے کیساتھ دوسری گال بھی پھیر دینے کی تھی۔دراصل عیسائیوں نے اس کے معنے بدل دیئے ورنہ مسیح نے اسے جس طرح استعمال کیا تھا وہ صحیح تھا۔مسیح کا مطلب یہ تھا کہ میں اپنی بات کو لے کر کھڑا ہو جاؤں گا جو مانتا ہے مانے جو لڑنا چاہے وہ لڑے۔ہماری تعلیم بھی یہی ہے کہ ایک طرف تو گالیاں کھائے جاؤ مگر دوسری طرف سچائی کو پھیلانے میں کسی قسم کی سستی نہ کرو۔پس ہم ایک طرف صلح کے لئے آئے ہیں اور دوسری طرف سچائی پر اڑ