خطبات محمود (جلد 13) — Page 275
خطبات محمود ۲۷۵ سال ۱۹۳۱ء کر کھڑے ہونے کے لئے۔اور دراصل کامیابی کا گر بھی یہی ہوتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں بحیثیت قوم لوگ ہمارے مخالف ہیں جو مسلمان ہمارے خلاف ہیں وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں ہمارے مفاد اکثر متفق ہیں مگر ان کا ہمارے ساتھ کیا سلوک ہے ؟ اگر ہم کسی وقت ان کی مدد کرتے ہیں تو وہ ہمیں منافق کہتے ہیں اور اگر ہم الگ ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہماری مصیبتوں میں ہمار ا ساتھ نہیں دیتے۔میں نہیں سمجھ سکتا وہ چاہتے کیا ہیں۔ان کی مثال شتر مرغ کی سی ہے کسی نے اس سے کہا " اُڑو " تو اس نے جواب دیا ”بھلا کبھی حیوان بھی اُڑا کرتے ہیں لیکن جب اسے کہا گیا کہ ”اچھا بوجھ اٹھاؤ " تو کہنے لگا " بھلا کبھی پرند بھی بوجھ اٹھاتے ہیں تو ہماری مخالفت کی کوئی نہ کوئی تدبیر سوچ ہی لی جاتی ہے۔اگر اچھے اچھے سمجھدار لوگ باوجود اپنے بھائیوں کی مخالفت کے ہمارے ساتھ مل کر کام کریں تو ۹۵ فیصد یہی کہتے ہیں کہ تم کو کام کے لئے کس نے بلایا ہے ؟ مگر ہم وقت پر ان کی مدد کو نہ آئیں تو کہتے ہیں ہمار ا ساتھ نہیں دیتے۔ایک مشہور حکایت ہے کہ ایک آدمی کسی عورت سے شادی کر کے کسی نہ کسی بہانہ سے طلاق دیدیا کرتا تھا اور اس کے مال پر قبضہ کر لیتا تھا۔آخر کار اسے ایک ایسی بیوی ملی جس میں وہ کوئی نقص نہ نکال سکا ایک دن بیوی روٹی پکا رہی تھی وہ باورچی خانہ میں جا بیٹھا اور کہنے لگا۔آج میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔آخر کار اس نے کہا کہ تو روٹی تو ہا تھوں سے پکا رہی ہے مگر تیری کہنیاں کیوں ہلتی ہیں۔بیوی نے جواب دیا کہ تم روٹی اطمینان سے کھاؤ اس کا جواب بھی دے دیتی ہوں۔میاں جب روٹی کھا رہا تھا تو بیوی نے کہا کہ روٹی تو تم منہ سے کھاتے ہو تمہاری ڈاڑھی کیوں ہلتی ہے۔تو در اصل بعض لوگ بہانوں سے لڑتے ہیں۔کسی بکری کے بچے کو بھیڑیے نے کہا کہ تم ندی کا پانی کیوں گدلا کرتے ہو۔اس نے جواب دیا کہ پانی تو تمہاری ہی طرف سے آرہا ہے۔بھیڑیئے نے کہا ارے تم ہمارے سامنے بولتے ہو اور اسے وہیں تھپڑ مار کر ہلاک کر دیا۔دراصل یہ لوگ کثرت کی وجہ سے دلیر ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں ایک احمدی کے مقابلہ میں ان کا ہزار آدمی ہے اس لئے وہ جو بات کہتے ہیں وہی صحیح ہے۔مسلمانوں کے علاوہ دوسری اقوام بھی ہماری مخالف ہیں۔کل ایک دوست نے سنایا کہ کسی ہندو وکیل نے انہیں بتایا کہ آج کل ہندو اس بات پر تلے بیٹھے ہیں کہ احمدیوں کو جہاں تک ممکن ہو اور جس طریق پر بھی ممکن ہو نقصان پہنچا ئیں۔اور ہمارا ایک ماحول تو یہ ہے لیکن یاد رکھو جس کے دل میں انسانیت کی شمع روشن ہوتی ہے وہ مشکلات سے گھبرا تا نہیں بلکہ ہمت ہارنے کی بجائے اس کی ہمت بلند ہو جاتی ہے۔دشمن کی عدم موجودگی میں