خطبات محمود (جلد 13) — Page 225
خطبات محمود ۲۲۵ سال ۱۹۳۱ء کا واسطہ نہ تھا بلکہ ساری دنیا سارے سلسلے ، سارے جتھے اور ساری جماعتیں ان کے مقابل پر کھڑی تھیں مگر باوجود اس کے کہ اتنا عظیم الشان کام ان کے سپرد تھا ان کے ارادے اور حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ کہتے ہیں اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں کیا دشمن اب بھی ہم پر غالب آسکتا ہے؟ بدر کی جنگ میں دو نوجوانوں سے جو کچھ ظاہر ہوا وہ ہمارے ایمانوں کو تازہ کرنے والا واقعہ ہے۔عبد الرحمن بن عوف ایک تجربہ کار جرنیل اور جنگی خاندان کے فرد تھے کہتے ہیں اس موقع پر ہمارے دلوں میں بہت جوش تھا۔چونکہ کے والوں نے ایک لمبے عرصہ تک رسول کریم می ایم اور آپ کے صحابہ کو سخت اذیتیں پہنچا ئیں اور دکھ دیئے تھے اس لئے ہم چاہتے تھے کہ اس جنگ میں اپنے دل ٹھنڈے کریں۔ہم اسی امید اور آرزو کے ساتھ بدر میں پہنچے مگر یہ امید بھی کیسی امید تھی۔اس وقت صحابہ کی کل تعداد صرف ۳۱۳ تھی اور دشمن کی تعداد ایک ہزار پھر وہ دشمن بھی معمولی نہیں بلکہ ان میں سے ہر شخص تجربہ کار اور فنون جنگ سے پوری طرح واقف تھا اور ان میں بڑے بڑے مشہور سردار تھے۔آج کل لوگ دماغی قابلیت کی وجہ سے سردار بنائے جاتے ہیں اس لئے شاید یہ سمجھنے میں دقت ہو کہ سردار سے لڑائی کا کیا تعلق۔سویا درکھنا چاہئے کہ اُس زمانہ میں جسمانی قابلیت کی وجہ سے لوگوں کو سردار بنایا جاتا تھا۔پس سردار کے معنے یہ ہوتے تھے کہ عرب کا مشہور لڑنے والا انسان۔ایسے ہزار لوگوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کا یہ خیال کرنا کہ آج ہم اپنے دل کے حوصلے نکالیں گے جبکہ مسلمانوں کی کل تعداد ۳۱۳ تھی۔اور لڑائی میں شامل ہونے والے مسلمان اگر لڑائی کے فنون سے بالکل نابلد نہ تھے تو ان کے کامل ماہر بھی نہ تھے اس یقین اور و ثوق پر دلالت کرتا ہے جو رسول کریم میں کی وجہ سے مسلمانوں میں پیدا ہو گیا تھا۔مگر ہماری حیرت کی کوئی انتہاء نہیں رہتی جب عبدالرحمن بن عوف خود بیان کرتے ہیں کہ میں انہی خیالات کی ادھیڑ بن میں تھا کہ آج دشمنوں سے مقابلہ ہو تو ہم اپنے دل کے حوصلے نکالیں کہ اچانک میں نے اپنے دائیں اور بائیں دیکھا تا معلوم کروں کہ میرے دائیں بائیں کون کون ہیں۔وہ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ مدینہ کے دو نو عمر لڑ کے جو سولہ سترہ سال کے تھے میرے دائیں بائیں کھڑے ہیں انہیں دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا اور میری امیدوں پر پانی پھر گیا میں نے خیال کیا اب اگر میں لڑائی کروں تو کس برتے پر۔مگر کہتے ہیں ابھی میرے دل میں یہ خیال آیا ہی تھا کہ مجھے کہنی کے ساتھ ایک لڑکے نے اپنی طرف متوجہ کیا۔میں نے جب دیکھا تو ایک نوجوان نہایت آہستگی سے تاکہ