خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 224

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء فرمایا۔آپ کے آتے ہی روحانیت کے متعلق "شاید" اور "اگر" کے الفاظ دنیا سے مٹ گئے اور ایسا یقین اور اطمینان آپ نے قلوب کو بخشا کہ اس اطمینان اور یقین کی وجہ سے لوگوں کی حالت کچھ سے کچھ ہو گئی۔اس وقت بھی دنیا میں بحثیں ہوتی تھیں مگر ان کا رخ تبدیل ہو گیا۔خیالات نے بالکل نیا پلٹا کھایا اور ایک ایسی جماعت رسول کریم میں کے ذریعہ قائم ہو گئی جس کا لفظ لفظ یقین اور وثوق کے ساتھ لپٹا ہوا تھا اور ایسا اس کے اندر اطمینان بھرا ہوا تھا کہ اس کے سننے والوں کے دل بھی یقین اور اطمینان سے بھر جاتے تھے۔آخر وہی عرب کے لوگ تھے جو رسول کریم کی آمد سے پہلے تھے مگر ان کی حالتیں آپ میر کی پاک صحبت میں بیٹھنے کی وجہ سے اور آپ میر کا پُر تاثیر کلام سننے کی وجہ سے بالکل بدل گئیں حتی کہ ہم دیکھتے ہیں قلوب کے اندر ایسی تبدیلی پیدا ہو گئی کہ ایک بیٹے نے باپ سے کہا وہ بیٹا اس وقت تک اسلام میں داخل نہیں ہو ا تھا) کہ فلاں جنگ کے موقع پر جبکہ آپ اسلام کی طرف سے جنگ کر رہے تھے اور میں کفار کی طرف سے میں نے آپ کو دیکھا آپ اس وقت میری زد میں تھے۔باپ نے پوچھا پھر؟ بیٹے نے کہا پھر میں نے کہا یہ میرا باپ ہے پس میں اپنی نظر بچا گیا۔یہ سن کر باپ نے جواب دیا خدا کی قسم اگر میں تجھے جنگ میں کسی ایسے موقع پر دیکھ لیتا تو تجھے کبھی زندہ نہ جانے دیتا۔یہ واقعہ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے دلوں کے گوشہ گوشہ میں اللہ تعالیٰ کا پیار اور اس کی محبت کس طرح حاوی اور مسلط ہو چکی تھی۔وہ اپنی جان ، مال اولاد کی اسلام کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہ سمجھتے تھے۔جو بھی خلاف اسلام بات انہیں نظر آتی جس حد تک ممکن ہو تا اسے مٹانے کی کوشش کرتے۔ان کے یقین اور وثوق کی حد یہاں تک پہنچی ہوئی تھی کہ مدینہ منورہ میں رسول کریم میں نے ایک دفعہ فرمایا مردم شماری کی جائے اور پتہ لگایا جائے کہ کل کتنے مسلمان ہیں۔مردم شماری کی گئی جس میں سات سو مسلمان نکلے۔جب رسول کریم میں تمام ایم کو یہ تعداد بتائی گئی تو ساتھ ہیں بعض صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مٹا نہیں سکتی۔خیال تو کرو سات سو کی تعداد کیا ہوتی ہے۔پھر کتنا عظیم الشان کام ان کے سپرد تھا۔کسی معمولی علاقہ کا فتح کرنا ان کے ذمہ نہ تھا۔کوئی معمولی تبلیغی یا تعلیمی انتظام کرنا ان کا کام نہ تھا۔کسی ایک ملک کو ہدایت پہنچانا اور وہاں کے لوگوں کو اسلام کے رنگ میں رنگین کرنا ان کے سپرد نہ تھا بلکہ ان کا کام یہ تھا کہ وہ ساری دنیا کو فتح کریں، ساری دنیا کو تعلیم دیں ، ساری دنیا سے شرک مٹاکر اس میں توحید کے خیالات پھیلائیں غرض کسی ایک قوم سے ان کا مقابلہ نہ تھا کسی ایک ملک یا ایک نسل سے ان اليوم