خطبات محمود (جلد 13) — Page 226
خطبات محمود ۲۲۶ سال ۱۹۳۱ء دوسرائر کا نہ سن لے کہنے لگا چارہ ابو جہل کون ہے جو رسول کریم میں کو تکلیفیں دیا کرتا ہے میرا دل چاہتا ہے میں اس کو ماروں۔ابھی اس نوجوان کا یہ فقرہ ختم نہ ہونے پایا تھا کہ دوسرے نے مجھے آہستگی سے کہنی ماری اور پوچھا اچھا وہ ابو جہل کون ہے جو رسول کریم میر کو سخت تکلیفیں دیا کرتا ہے میرا دل چاہتا ہے میں اسے ماروں۔عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں میں یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا کیونکہ باوجود جنگ کا تجربہ رکھنے اور دل کھول کر لڑنے کا ارادہ کرنے کے یہ خیال میرے دل میں بھی نہ آیا تھا کہ میں ابو جہل کو ماروں۔ابو جہل اس وقت قلب لشکر میں تھا اور اس کے سامنے عکرمہ اس کا بیٹا اور ایک اور جرنیل ننگی تلوار کا پہرہ دے رہے تھے۔اور عکرمہ ایسا دلیر اور جری انسان تھا جس نے اسلام لانے کے بعد دو دو ہزار تشکر کا اکیلے مقابلہ کیا ہے۔ایسا بہادر شخص اس کے سامنے ننگی تلوار کا پہرہ دے رہا تھا اور پھر وہ قلب لشکر میں تھا جہاں پہنچنا سخت مشکل ہوتا ہے۔ایسے موقع پر عکرمہ دُہرا فرض ادا کر رہا تھا ایک بحیثیت بیٹا ہونے کے اور ایک بحیثیت سپاہی ہونے کے۔دوسرا بھی کوئی مشہور جرنیل عکرمہ کے ساتھ تھا۔عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں میں نے حیرت کے ساتھ اپنی انگلی اٹھائی اور کہا وہ جو لشکر کے درمیان کھڑا ہے اور جس کے آگے دو جرنیل ننگی تلواریں لئے ہوئے ہیں وہ ابو جہل ہے۔میرا یہ فقرہ ابھی ختم نہ ہونے پایا تھا کہ وہ دونوں یوں جھپٹے جس طرح باز ایک چڑیا پر حملہ کرتا ہے۔وہ قلب لشکر میں گھس گئے اور انہوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے گرا دیا۔گو بوجہ نا تجربہ کاری کے اسے قتل نہ کر سکے مگر اسے کاری زخم لگا اور اسی جنگ میں وہ ہلاک ہو گیا۔یہ ہے وہ ایمان اور یقین جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا کرتے ہیں۔میں نے یہ واقعات اس لذت کے اظہار کے لئے سنائے ہیں جس کے متعدد سامان موجودہ زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لوگوں کے دلوں میں یقین اور ایمان پیدا کر کے ہمارے لئے کیا فرما دیتے ہیں۔میں نے پچھلے سے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں اعلان کیا تھا کہ ایک شخص نے جو امیر جماعت اہلحدیث کہلاتے ہیں ہمیں مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔میں نے اعلان کیا تھا کہ اس مباہلہ میں ایک ہزار آدمی ہماری طرف سے شامل ہوں اور ایک ہزار آدمی ان کی طرف سے تا اس مباہلہ کا اثر ہر رنگ میں وسیع اور نمایاں ہو لیکن اس وقت جب میں اعلان کر رہا تھا میں بھی ان جذبات کا اندازہ نہیں کر سکتا تھا جو جذبات جماعت کے دوستوں کے اب میرے سامنے آئے ہیں۔آج کل قریباً ساری ڈاک ایسے ہی خطوط سے بھری ہوتی ہے جن میں خواہش اور