خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 90

خطبات محمود سو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سے یہ حکم نافذ ہو چکا ہے کہ اب جلد جماعت کی ترقی کا وقت آگیا ہے۔میں نے دیکھا ہے ہماری جماعت کے افراد اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کر کے بہت جلد ترقی کر سکتے ہیں۔مثلاً یہاں پھیرو چیچی میں ہی کئی سو کی جماعتوں ہے۔اسی مردم شماری میں معلوم ہوا ہے یہاں احمدیوں کی تعداد چار سو آٹھ ہے۔گاؤں کے لحاظ سے یہ بہت بڑی جماعت ہے اور بہت کم ہوں گے ایسے گاؤں جن میں اتنی بڑی جماعت ہو۔میرے خیال میں دو اڑھائی سے گاؤں ہی ایسے ہوں گے جن میں اتنی یا اس سے زیادہ جماعت ہو باقی سو پچاس ڈیڑھ سو افراد کی جماعتوں والے گاؤں ہیں۔اب پھیرو چیچی کی جماعت ان ہزاروں شہروں اور گاؤں سے نکل کر اس طبقہ میں آگئی ہے جن کی تعداد دو اڑھائی سو ہے۔اگر یہاں تبلیغی سیکرٹری ہے جیسا کہ ہمارے نظام کے لحاظ سے ہونا چاہئے اور یہاں کے چار سو احمدیوں کے ایک تو گھر سمجھ لیں تو ان کی رشتہ داریاں کئی دوسرے دیہاتوں میں ہوں گی۔اب سیکرٹری تبلیغ ایسا نقشہ بنائیں کہ یہاں کے احمدیوں کی رشتہ داریاں کہاں کہاں ہیں۔ان کی رشتہ داریاں کم از کم سو مقامات پر ہوں گی گویا سو مقامات پر یہاں کے لوگ آسانی سے تبلیغ کر سکتے ہیں۔تبلیغ کے لئے ایک بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ جہاں کوئی احمدی نہ ہو وہاں اگر تبلیغ کے لئے جائیں تو کہاں ٹھہریں اور کسے اپنی باتیں سنائیں۔کوئی نہ کوئی ہمدردی اور تعلق رکھنے والا ہونا چاہئے تو یہاں کے لوگوں کے لئے سو گاؤں ایسے نکل سکتے ہیں جہاں ان کی رشتہ داری ہو اور ان میں سے پچاس ساٹھ ایسے ہوں گے جہاں ان کے رشتہ دار احمدی نہ ہوں گے۔اب پہلے یہ انتظام کریں کہ احمدی پہلے اپنے رشتہ دار کے پاس جائیں اور اسے سمجھا ئیں جب وہ سمجھ جائے تو اسے کہیں اپنے بھائی بندوں کو جمع کرو تاکہ وہ بھی باتیں سن لیں۔اس طرح گفتگو کرنے میں کوئی دشمنی اور عداوت نہیں پیدا ہوتی کیونکہ انگیخت ہمیشہ غیر کیا کرتا ہے۔قریبی رشتہ دار جمع کئے جائیں اور انہیں باتیں سنائی جائیں تو پھر فتنہ نہیں پیدا ہو تا۔قرآن کریم میں بھی تبلیغ کا یہی گر بتایا گیا ہے۔وَانْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ جو تمہارے سب سے قریبی رشتہ دار ہیں پہلے ان کو تبلیغ کرو۔اصل بات یہ ہے کہ قریبی رشتہ داروں کو اگر کوئی اور نہ بڑھکائے تو وہ لڑائی جھگڑا نہیں کرتے چاہے مانیں یا نہ مانیں لیکن باتیں سن لیتے ہیں۔تو اپنے رشتہ دار سے کہا جائے کہ تم اپنے قریبی رشتہ داروں ، باپ بیٹے ، بہنوئی خسر، سالے وغیرہ کو جمع کرو تاکہ ان کو بھی باتیں سنائیں۔جب ان کو سنانے کا موقع مل جائے اور معلوم ہو کہ بیج بویا گیا ہے تو قادیان لکھ کر مبلغ منگوالیں اور کوشش کریں کہ اس گھر کے لوگ احمدی ہو جائیں۔پھر