خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 91

خطبات محمود سارے گاؤں میں تبلیغ شروع کر دی جائے۔اسی طرح اگر پھیر و چیچی والے کو شش کریں تو کئی گاؤں ایسے نکلیں گے جہاں احمدی نہیں۔وہاں اگر ان کی اپنی رشتہ داری نہیں تو ان کے رشتہ داروں کی رشتہ داری ہوگی اور رشتہ داروں کے رشتہ دار اپنی ہی رشتہ دار ہوتے ہیں۔اس طرح ان گاؤں میں بھی تبلیغ کا موقع نکل سکتا ہے۔اگر یہاں کی جماعت اس طرح تبلیغ کرنے کی کوشش کرے اور اسی طرح سارے ہندوستان کی جماعتیں کوشش کریں تو لاکھوں احمدی تھوڑے سے عرصہ میں بن سکتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنی بہت سی تبلیغی کو ششیں ضائع کر دیتے ہیں۔ایک زمیندار اگر بغیر زمین میں ہل چلائے اور سہاگہ پھیرے اس میں بیج ڈال دے تو پیج ضائع ہو جائے گا۔بیج اُگانے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ہل چلایا جائے۔اور پھر سہا کہ پھیرا جائے تب بیج پیدا ہو گا۔یونہی کسی کو تبلیغ شروع کر دیتا اپنی کوشش کو ضائع کر دیتا ہے ہمیں کو شش کرنی چاہئے کہ ہمارا کوئی لفظ ضائع نہ جائے۔ہم اسے ایسی جگہ سنائیں جہاں اثر کر سکے اور ایسی جگہ قریبی رشتہ دار ہی ہوتے ہیں۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ عقل اور سمجھ کے ساتھ تبلیغ کریں۔بے سبھی کی تبلیغ کا وہ تجربہ کر چکے ہیں نتیجہ تو کچھ نہ کچھ نکلتا رہا ہے مگر بہت سانج ضائع ہی جاتا ہے۔لیکن اگر تمام جماعت کے لوگ اپنے رشتہ داروں کی فہرست بنا ئیں اور دیکھیں کہ کہاں کہاں ان کی رشتہ داری ہے یا ان کے رشتہ داروں کی رشتہ داری ہے تو میں سمجھتا ہوں پنجاب میں کوئی گاؤں ایسا باقی نہ رہ جائے جہاں کسی نہ کسی احمدی کی رشتہ داری نہ ہو۔اب سینکڑوں گاؤں ایسے ہیں جہاں احمدیوں کو تبلیغ کا موقع نہیں ملتا حالانکہ خدا تعالیٰ نے رشتہ داروں کا ایسا ذریعہ بنایا ہے کہ ایک گاؤں بھی خواہ وہ پہاڑ میں ہی کیوں نہ ہو احمدیوں کی رشتہ داری سے خالی نہ ہو گا۔یوں ایک مبلغ جہاں جاکر تبلیغ کرتا ہے وہاں چونکہ سارے کے سارے لوگ اس کے مخالف ہوتے ہیں اس لئے ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔لیکن اگر یہ پتہ لگایا جائے کہ فلاں گاؤں میں کس کی رشتہ داری ہے اور پھر اسے ساتھ لے لیا جائے تو پھر وہ لوگ اچھی طرح باتیں سن لیں گے اور اس طرح تقریر دشمنوں کے کانوں میں ہی نہیں بلکہ دوستوں کے کانوں میں بھی پڑے گی۔یہ تبلیغ کا ایسا ذریعہ ہے کہ اگر اسے استعمال کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ چند سال میں حیرت انگیز تغیر ہو سکتا ہے۔گورداسپور کے متعلق میں نے غور کیا ہے اگر ہم پورے زور سے کام کریں تو ایک سال میں ہی فتح کر سکتے ہیں۔لوگوں کے دل مان چکے ہیں اب صرف ملانوں کی مخالفت موجود ہے اور اگر ملانوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ لوگوں کے دل مان چکے ہیں تو وہ پھر مخالفت نہ کریں گے۔جلسہ کے