خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 518

خطبات محمود سینکڑوں گنا زیادہ قربانیاں پیش کر سکتا ہے مگر ہم میں یاد گار قائم رکھنے کی عادت نہیں یا پھر شاید اس لئے کہ بہت سی مثالیں ہیں اس لئے ان کی طرف توجہ نہیں۔جس شخص کے پاس ایک روپیہ ہو وہ اسے سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے لیکن جس کے پاس ہزاروں ہوں وہ زیادہ پرواہ نہیں کرتا۔دوسروں کی قربانیاں معمولی اور تھوڑی ہیں اس لئے وہ یاد رکھتے ہیں اور ہماری چونکہ ہزاروں ہیں اس لئے ہم قدر نہیں کرتے۔کئی لوگ دوسروں کی قربانیوں کو یاد کر کے خیال کرتے ہیں کہ وہ کیسے اچھے لوگ تھے ، کاش ہم بھی دیے ہوتے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ویسے ہی نہیں بلکہ ان سے زیادہ ہم میں موجود ہیں۔مگر انہیں قدردانی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔روحانی بینائی سے انہیں نہیں جانچا گیا بلکہ دنیاداری کی آنکھ سے دیکھا گیا ہے۔وہ نور جو روحانی مدارج کو دیکھنے کے لئے درکار ہے اس سے نہیں دیکھا گیا، اس لئے وہ نظروں سے اوجھل ہیں۔افسوس ہے آج میں جلد نہ آسکا وگرنہ میرا ارادہ تھا کہ نوجوانوں کے سامنے ایک پروگرام رکھتا جس سے وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کر سکتے اور اپنے کام کی طرف متوجہ ہو سکتے۔میں پہلے بڑوں کو مخاطب کرتا رہا ہوں لیکن اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔میں نے انصار اللہ کی تحریک جاری کی تھی لیکن میں نے دیکھا ہے کہ کام کرنے والے ہفتہ کے دوران میں کچھ کام نہیں کرتے تھے۔اور زیادہ سے زیادہ وہ اس جلسہ میں شامل ہو جاتے تھے جس میں میں نے تقریر کرنی ہوتی تھی۔جب میں نے دیکھا کہ ایسی توجہ اس کی طرف نہیں جس سے خاص فائدہ ہو سکے تو اسے بند کر دیا۔لیکن میں یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ کوئی وجہ نہیں اگر ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو صحیح طریق پر مخاطب کیا جائے اور ان کی خفیہ قوتوں کو بیدار کیا جائے تو مفید نتائج پیدا نہ ہوں۔میرا منشاء ہے کہ نئی سکیم جو ۲۵ سال تک کی عمر کے نوجوانوں کو بطور والنٹینر بھرتی کرنے کے متعلق ہے اسے اس رنگ میں منظم کیا جائے کہ نوجوانوں کے دلوں میں روحانیت کے ساتھ ساتھ سلسلہ کی عظمت اور وقار بھی قائم ہو سکے۔اور مجھے امید ہے کہ ہمارے یہاں کے بھی اور باہر کے بھی نوجوان ہر وقت ترقی کرنے کے لئے تیار ہیں اور ان کے سینوں میں جوش اور ولولہ کی آگ بھڑک رہی ہے اگر چہ سستی اور غفلت کے باعث اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔(الفضل ۱۴ جولائی ۱۹۳۲ء) بنی اسرائیل : ۱۷ الرعد: ۴۲