خطبات محمود (جلد 13) — Page 519
خطبات محمود ۵۱۹ 60 سال ۱۹۳۲ء حقیقی بہادر بننے کی کوشش کریں فرموده ۲۹ - جولائی ۱۹۳۲ء بمقام ڈلہوزی) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- رسول کریم میں اللہ نے فرمایا ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے مومن ایک ایسے پل پر سے گزریں گے جو اپنی بار یکی اور تیزی میں تلوار کی دھار سے بھی زیادہ باریک اور تیز ہو گا۔بظاہر یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے اور انسان تعجب کرتا ہے کہ اس قسم کے تماشہ کی کیا ضرورت تھی لیکن اگر ہم حقیقت پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ تلوار کی طرح تیز ہونا ان مشکلات کی طرف اشارہ ہے جن میں سے ہر ایک مؤمن کو گزرنا پڑتا ہے۔دیکھو ہر ایک شئے میں افراط تفریط اور وسط کا مقام ہوتا ہے۔اس میں وسط کا مقام سب سے چھوٹا ہو تا ہے۔عام حالات تکی میں دیکھ لو ہم ایک سڑک پر سے گزرتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ ایک سو پچاس فٹ چوڑی ہوگی لیکن زمین کا محیط تقریبا پچیس ہزار میل ہے اور ہم اس راستہ سے قریباً ساڑھے بارہ ہزار میل دائیں اور ساڑھے بارہ ہزار میل بائیں پھر سکتے ہیں۔لیکن وہ سڑک جو منزل مقصود تک پہنچانے والی ہوتی ہے وہ اس کے مقابلہ میں بہت ہی چھوٹی ہے۔یہ تو ظاہری سڑکوں کا حال ہے جو چوڑی بنائی جایا کرتی ہیں مگر روحانی سڑک تو بہت زیادہ باریک ہوتی ہے۔میں اس وقت اس پل صراط میں سے ایک چیز کو لیتا ہوں جو ان دنوں میرے قلب پر خاص طور پر اثر کر رہی ہے اور وہ جرأت اور بہادری ہے۔جرات اور بہادری کا معاملہ بھی نہایت نازک ہے اگر کوئی کسی سے یہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے سمجھ لوں گا تیرے ساتھ یوں کروں گاؤوں کروں گا تو یہ فقرہ اسلام میں جائز نہیں ہے۔اک ادنیٰ سے ادنیٰ حیثیت کا انسان مثلا چوہڑا بھی اگر ایک مسلمان بادشاہ سے کہے کہ میں تمہارے ساتھ یوں کروں گاؤوں کروں گا تو وہ مسلمان بادشاہ اس