خطبات محمود (جلد 13) — Page 517
خطبات محمود ۵۱۷ سال ۱۹۳۲ء تھے لیکن سید عبد الطیف پر آدھ یا پون گھنٹہ تک مسلسل پتھروں کی بارش ہوتی رہی لیکن وہ آخر تک پوری طرح ہوش و حواس میں رہے اور پتھر مارنے والوں کو دعائیں دیتے رہے۔یہی حال بعد کے شہداء کا ہے انہیں طرح طرح کے دکھ دیئے گئے مگر انہوں نے ذرہ پرواہ نہ کی۔اپنی طرف سے نہایت ذلت کے ساتھ انہیں بازاروں میں پھرایا گیا، رستوں میں ان پر تھوکا گیا، گالیاں دی گئیں اور مجبور کیا گیا کہ کہہ دو مرزا صاحب کا دعویٰ جھوٹا ہے۔مگر وہ یہی کہتے رہے ہم تو خدا تعالیٰ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ تمہیں ہدایت دے اور تم بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کرلو۔ایک شخص جو اب احمدی ہو گیا ہے ایک زمانہ میں وہ سخت مخالف تھا۔اس نے مجھے کئی خط لکھے۔اس نے لکھا میرا دل رنج والم سے بھر جاتا ہے جب میں یہ یاد کرتا ہوں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے سب سے پہلے پتھر مارنے کا اقدام کیا تھا۔اور میں حیران ہوں کہ وہ کس طرح پتھروں کی بارش کے باوجود دعائیں دیتے رہے۔تعجب ہے کہ کروڑوں انسان اس چھ گھنٹہ کی صلیب کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے مختلف طریق سے کام لیتے ہیں۔ان میں سے بہت سے اپنی گردن میں صلیب لٹکائے رکھتے ہیں مگر اس سے زیادہ شاندار قربانیوں کی زیادہ مثالیں تمہارے اندر موجود ہیں اور تمہیں انہیں زندہ رکھنے کا خیال نہیں آتا۔میں نہیں سمجھتا ہمارے نوجوانوں کے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے بزرگوں کے کارناموں اور ان کی دین کے لئے قربانیوں کی یاد تازہ رکھنا نہیں چاہتے۔دوسری اقوام کی مثالوں پر تو عرصہ گزرگیا لیکن۔ہماری جماعت کے لوگوں کی مثالیں ابھی تازہ ہیں۔بیت الدعا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا فرمایا کرتے تھے مولوی عبد الکریم صاحب نے خواہش کر کے اس کے اوپر ایک کمرہ بنوایا تھا۔چونکہ چھت چھوٹی تھی نیچے کی آواز او پر سنائی دے سکتی تھی۔مولوی صاحب سنایا کرتے کہ ایک دن ایسی آواز نیچے سے آرہی تھی جیسے کوئی عورت درد زہ سے بیتاب ہو۔وہ طاعون کے ایام تھے اور سخت طاعون پھیلی ہوئی تھی۔اور علاقوں کے علاقے صاف کر رہی تھی۔میں نے اس کرب و تکلیف کی آواز کو جو سنا تو معلوم ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام دعا کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ تھا کہ الہی اگر طاعون اسی طرح تباہی پھیلاتی رہی تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔ہمارے لوگوں کو پروپیگنڈا کا صحیح طریق نہیں آتا و گر نہ جتنی قربانیاں اور جس شان کی قربانیاں ہمارے لوگوں نے کی ہیں ان کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔اور قربانی کے صحیح طریق کو اگر دیکھا جائے تو ہمار ا سلسلہ پہلے سلسلوں سے