خطبات محمود (جلد 13) — Page 516
خطبات محمود ۵۱۶ سال ۱۹۳۲ء اطرافها یعنی ہم انکی دنیا کو تنگ کر رہے ہیں۔یہ دیکھتے نہیں کہ کس طرح روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں۔پس اگر ماں باپ کے اثر کے نتیجہ میں ہی اولاد کی اصلاح ہوتی تو یہ نوجوان جنہوں نے ایسے وقت میں رسول کریم ان کے ہاتھ پر بیعت کی جب ساری دنیا مخالف تھی اور جب راستوں پر چلنا مسلمانوں کے لئے دشوار تھا۔یہ اٹھارہ اٹھارہ اور ہیں ہیں سال کے نوجوان جن کے عیش و آرام کے دن تھے خود بخود اپنے لئے ایسی زندگی کو پسند نہ کرتے جو قید سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانوں کا دماغ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بڑے اور بھلے میں تمیز کر سکے۔اگر ان نوجوانوں نے باوجود والدین کی مخالفت کے نیکی کی راہ اختیار کی تو ہمارے نوجوان ماں باپ کی تائید کے باوجود کیوں نہیں کر سکتے۔اس لئے اپنے نوجوانوں کے والدین ان کے بڑوں ، رشتہ داروں استادوں اور بزرگوں کو نظر انداز کرتے ہوئے گویا وہ اس وقت میرے مخاطب نہیں ہیں میں براہ راست نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں کیونکہ ایک دن وہی کام جو اس وقت ان کے والدین کا ہے ان کے کندھوں پر پڑے گا۔خدا تعالیٰ نے احمدیت کے پودے کو ان لوگوں کے خون سے سنچوایا ہے جو نیکی میں اس قدر ترقی یافتہ تھے کہ ان قدموں کی خاک عام لوگوں کے سروں کے لئے برکت کا موجب ہے۔انہوں نے اپنی زندگی کی تمام گھڑیاں سلسلہ کی عظمت قائم کرنے کے لئے خرچ کیں۔وہ بے شک تلوار سے نہیں کاٹے گئے۔اگر چہ کئی ایک جان سے بھی مارے گئے۔مگر زیادہ تر آہستہ آہستہ دق اور رسل سے فوت ہوئے۔ظاہری دق اور سیل نہیں بلکہ قومی درد کی دق اور رسل جو ظاہری سے کہیں زیادہ سخت ہوتی ہے۔ان کی عمریں جتنی سلسلہ کے لئے بسر ہوئیں، اس کے دوران میں دنیا کی اصلاح کے لئے وہ گویا جنم میں گرے اور اس لئے گرے کہ تا تم جنت کو پاسکو۔پس میں نوجوانوں سے پوچھتا ہوں کیا سلسلہ کے ان جاں نثاروں کی قربانیاں ایسی نہیں کہ وہ ان کو اپنے لئے مثال بنائیں۔اور بجائے اپنے وقت کو آوارگی میں بسر کرنے کے دنیا کے لئے مفید بنا ئیں۔دنیا میں قربانی اور ایثار کی کئی چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں جنہیں قائم رکھا جا رہا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کو صرف چھ گھنٹے کے لئے صلیب پر لٹکایا گیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں میں کیل گاڑے گئے مگر اس کے مقابلہ میں تمہارے سامنے کیسی شاندار مثالیں ہیں۔سید عبد الطیف صاحب شہید نے کس طرح جان دی۔ہزاروں آدمیوں نے پتھر مار مار کر انہیں شہید کیا۔مگر وہ اس وقت بھی انہیں دعائیں ہی دیتے رہے۔حضرت مسیح علیہ السلام تو صلیب کے صدمہ سے بے ہوش ہو گئے