خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 515

خطبات محمود ۵۱۵ سال ۱۹۳۲ء لئے نہیں ہو سکتا کہ اس طرح اس کی مخالفت کی جائے۔رسول کریم اچھی بات کہتے تھے لیکن لوگ آپ سے لڑتے تھے۔مگر کئی لوگ بری باتیں کہتے ہیں اور پھر بھی لوگ ان سے پیار کرتے ہیں۔تو یہ مخالفت بھی یونہی نصیب نہیں ہو جاتی۔اس زمانہ کے کئی مدعیان محض اس وجہ سے مجھے گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط لکھتے رہتے ہیں کہ کیوں "الفضل میں ہماری مخالفت نہیں کرائی جاتی مگر میں ان کو یہی جواب دیتا ہوں کہ مخالفت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے۔کب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے لوگوں کو خطوط لکھے کہ میری مخالفت کرو۔خدا تعالٰی نے خود ہی ان کے دلوں میں آگ لگادی۔اس طرح گندوں کے گند بڑھا دیئے اور پھر نیکوں کی نیکی میں ترقی دی۔بڑے بڑے لوگ خود ہی مخالفت پر کمربستہ ہو گئے۔اس پر عوام نے سمجھا کہ ضرور کوئی بات ہوگی اس لئے انہوں نے غور شروع کیا اور خدا تعالیٰ نے ان میں سے کئی ایک کو ہدایت دیدی - تو عام آدمیوں کے لئے خاص قانون جاری نہیں ہو تا اس لئے ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ در حقیقت اولاد کی تربیت کے متعلق عام قانون کی نگہداشت کے مطابق برے یا بھلے نتائج نکلتے ہیں۔بری صحبت عدم توجہی یا دماغی نقص سے برا نتیجہ نکلتا ہے اور اچھی صحبت کو شش اور تھی نیز دماغی قابلیت کیوجہ سے اچھا نتیجہ برآمدہ ہوتا ہے۔پس ان باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔جہاں خاص حالات ہوتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کا خاص قانون بھی جاری ہوتا ہے۔پھر یہ بات بھی صحیح نہیں کہ خدا تعالی کسی سے کہتا ہے بد ہو جا اور وہ بد ہو جاتا ہے۔دراصل وہ انسان خود بدی کا مستحق ہوتا ہے اور پھر یدی میں بڑھ جاتا ہے۔یہی اصل نیکیوں کے متعلق ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں بہت سے لوگ اس قانون سے غافل ہیں۔اور باوجود یکہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اولاد کی اصلاح کریں مگر نہیں کرتے۔میں سمجھتا ہوں احمدیت کے متعلق ذمہ داریاں جس طرح ماں باپ پر عائد ہوتی ہے اسی طرح اولاد پر بھی ہیں اس لئے کیوں نہ میں اولاد کو مخاطب کروں اور انہیں کہوں کہ خدا سے تمہارا تعلق والدین سے وابستہ نہیں۔ابو جہل کس طرح رسول کریم میمن کی مخالفت پر کمر بستہ تھا مگر عکرمہ نے کس طرح اسلام کی خاطر قربانیاں کیں۔اگر ماں باپ ہی زمہ دار ہوتے تو عکرمہ کو یہ سعادت کبھی نصیب نہ ہوتی۔اسلام کے ابتدائی ایام میں اس کے لئے جانیں قربان کرنے والے بڑے بڑے مخالفین کی اولاد میں سے ہی تھے یا بڑے لوگوں کے بھیجے بھانجے وغیرہ۔اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اشارہ فرمایا ہے کہ اَوَلَمْ يَرَوْا نَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ