خطبات محمود (جلد 13) — Page 477
خطبات کی د محمود ۶۱۹۳۲ جنہیں اپنی آنکھ کی کمزوری کی وجہ سے زرد رنگ نظر نہیں آتا بعضوں کو سرخ رنگ نظر نہیں آتا۔بعضوں کو سبز رنگ نظر نہیں آتا لیکن اور تمام چیزوں کو بخوبی دیکھ لیتے ہیں۔ہم اسے بینائی کا نقص تصور کرتے ہیں اور یہ نہیں کہتے کہ اس شخص کی آنکھیں ہر قسم کی بیماری سے محفوظ ہیں اسی طرح اگر تمہیں اپنے عیب دکھائی نہیں دیتے۔اگر تمہیں بڑے عیب تو نظر نہیں آتے لیکن چھوٹے چھوٹے گناہوں پر لٹھ اٹھا لیتے ہو۔تو یہ تمہاری نابینائی نہیں تو اور کیا ہے ہاں اگر اصلاح کے لئے صلح اور محبت کے ذرائع اختیار کرو تو پھر ساری جماعت تمہارے ساتھ ہوگی۔کون چاہتا ہے کہ ایک پیپ سے بھرا ہوا پھوڑا اس کے بدن پر رہے۔ہم آوارہ گردوں کے طرفدار نہیں ہے لیکن ان لوگوں کے بھی طرفدار نہیں جو آوارہ گردوں کی اصلاح کے لئے غلط قدم اٹھاتے ہیں۔آواره گردی آوارہ گردی سے دور نہیں ہو سکتی اصلاح ہمیشہ محبت اور پیار سے ہوتی ہے یہ مت خیال کرو کہ ایک چور کو چور کہہ کر تم اس کی اصلاح پر قادر ہو سکتے ہو یا ایک آوارہ گرد کو آوارہ گرد کہہ کر اسے درست کر سکتے ہو۔چاہے کوئی چور ہو یا آوارہ گرد- اگر تم اسے ایسا کہو گے تو وہ اور زیادہ جوش میں آجائے گا اور بجائے اصلاح کے تم اسے نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہو گے ہاں محبت اور پیار سے اصلاح ہو سکتی ہے جب کسی ایسے لڑکے کو دیکھو تو اسے نہایت نرمی سے سمجھاؤ اور کہو کہ تم تو بڑے اچھے لڑکے ہو مگر فلاں بات تم میں بری ہے اسے ترک کردو۔اس طریق سے اسے غصہ بھی نہیں آئے گا اور تمہاری بات ماننے کے لئے تیار بھی ہو جائے گا میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی وقت سزا کا نہیں ہو تا مگر سزا اس کی طرف سے ملنی چاہئے جس کے ہاتھ میں خدا نے جماعت کا نظام رکھا ہے اور سزا بھی ثبوت مہیا ہونے کے بعد دینی چاہئے۔میں نے تین سال تک مستریوں کی شرارتوں کو دیکھا۔بیسیوں آدمی مجھے کہتے کہ ان کا کوئی علاج کریں ورنہ یہ جماعت کو خراب کر دیں گے۔مگر میں ہمیشہ انہیں نہیں کہتا کہ میرے ہاتھ قرآن مجید نے باندھ رکھے ہیں جس دن قرآن مجید کے بتائے اصول شہادت کے ماتحت ان کا قصور ثابت کر دو گے میں انہیں سزا دے دوں گا لیکن جب تک تم یہ ثابت نہیں کر سکتے خواہ وہ سالہا سال تک شرارتیں کرتے چلے جائیں میں ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گا میں ہمیشہ ایسے دوستوں کو یہی جواب دیتا تھا حالانکہ میں سمجھتا تھا کہ ان کی باتیں درست ہیں لیکن چونکہ عدالتی رنگ میں میرے پاس ثبوت مہیا نہ تھا اس لئے میں تین سال تک خاموش رہا اسی طرح میرے ساتھ ابتدائے خلافت سے یہ سلوک ہوتا چلا آیا ہے مگر میں ہمیشہ اس امر کر دیکھتا ہوں کہ جہاں قرآن نے میرے ہاتھ بند کر