خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 476

محمود سال ۱۹۳۲ء بھروسہ اس پر کرو جو خدا تعالیٰ نے تمہارے ہاتھ میں دیا ہے۔حضرت سیخ موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمہارے ہاتھ میں کون سی چیز دی ہے ؟ تلوار یا قرآن؟ اگر حضرت مسیح موعود علیه الصلوۃ و السلام نے تمہارے ہاتھ میں تلوار دی تھی تو پھر تلوار سے ہی اصلاح ہو سکتی ہے اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تلوار نہیں دی بلکہ قرآن دیا ہے تو یا د رکھو اب اصلاح بھی قرآن سے ہی ہو سکے گی تمہارے ڈنڈوں سے نہیں ہو سکتی پھر اپنے جو شوں میں تو تم ڈنڈا اٹھا لیتے ہو لیکن جب میں کہتا ہوں کہ تم اپنے ہاتھوں میں سونٹار کھا کرو تو تم میری بات نہیں مانتے گویا میرے حکم پر تو تم ڈنڈا نہیں اٹھاتے۔لیکن جب تمہیں شیطان اکساتا ہے تو پھر فور اڈنڈا سنبھال لیتے ہو اور پھر جماعت کے والی وارث بننے کا دعویٰ کرتے ہو۔جسے خدا نے جماعت کا والی بنایا ہے وہ تمہیں کہتا ہے کہ اپنے ہاتھوں میں سونٹار کھو تو تم نہیں مانتے لیکن جب تمہیں تمہارا نفس شیطانی تحریک کے تحت کہتا ہے کہ ڈنڈا اٹھاؤ تو اس وقت فورا اٹھا کر دوسرے کو مارنے کے درپے ہو جاتے ہو۔گویا اس کے حکم پر جس کے ہاتھ پر تم نے بیعت کی اپنے نفسانی جو شوں کو ترجیح دیتے ہو اور خدا کے حکم کو شیطان کے حکم پر قربان کر دیتے ہو اور پھر لوگوں کے مصلح بنتے ہو۔اگر تم اصلاح کرنا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہو جاؤ اس کے حضور جھکو اور گریہ و زاری سے کام لو لڑکوں کے لئے عاجزی اور تفریع سے دعائیں کرو پھر دیکھو کس طرح خود بخود ان کی اصلاح ہونی شروع ہو جاتی ہے اگر اس پہلو سے غور کرو گے تو تمہیں نظر آجائے گا کہ تمہارے لڑکوں کی خرابی تمہارے اپنے گند کی وجہ سے ہے۔باجماعت نماز ہوتی ہے مگر لوگ کم آتے ہیں درس ہوتا ہے مگر لوگ نہیں آتے خربوزے کو خربوزہ دیکھ کر رنگ بدلتا ہے۔تم خود گندے ہو گئے اس لئے تمہیں دیکھ کر تمہاری اولادیں بھی گندی ہو گئیں۔اور اگر آئندہ بھی تم نے اپنی اصلاح نہ کی تو خد اتعالیٰ تمہاری اولادوں کو اور زیادہ گند میں بڑھا دے گا اور چاہے تم ان کے سر پھوڑو ان کا گند دور نہیں ہو گا۔میں ان لوگوں سے جو آج کل محلوں میں آوارہ گرد لڑکوں کے لئے لٹھ لئے پھرتے ہیں پوچھتا ہوں کہ کتنے ہیں ان میں سے جو درسوں میں شامل ہوتے ہیں کتنے ہیں ان میں سے جو نمازوں میں آتے ہیں کتنے ہیں ان میں سے جو خدا کے حکم کے ماتحت مسکینی اور انکسار اختیار کرتے ہیں پھر کتنے ہیں جو یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ گناہوں سے محفوظ ہیں تم بڑے بڑے گناہوں کو نظر انداز کر دیتے ہو اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے ہو۔اسے اگر ہم نا بینائی نہ کہیں تو اور کیا کہیں کئی لوگ ہوتے ہیں