خطبات محمود (جلد 13) — Page 406
خطبات محمود ۴۰۶ سال ۱۹۳۲ء فراموش نہیں کرتا اور ماں باپ کی طرف متوجہ ہو کر بیوی بچوں کو نہیں چھوڑ دیتا۔اسی طرح دین کی ساری ضرورتیں ہر وقت اس کے پیش نظر رہنی چاہئیں۔جب جاکر اس کے ایمان کی تمام دیواریں مکمل ہوں گی۔پس گذشتہ تین ماہ میں تبلیغ میں جو ستی ہوئی ہے دوستوں کو چاہئے باقی نو ماہ میں خوب زور دے کر تبلیغ کی اس کمی کو پورا کر دیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو توفیق دے کہ سب فرائض کی طرف ایک وقت میں توجہ کر کے تَخَلَّفُوا بِاخْلَاقِ اللہ کے مصداق بن سکیں۔ر خطبہ ثانی میں فرمایا ، بعض آداب ہوتے ہیں۔کئی بار سمجھایا بھی جاتا ہے لیکن انسان بھول جاتا ہے۔اور بعض نئے لوگ بھی آجاتے ہیں۔اس لئے پھر بتاتا ہوں کہ خطبہ کا وقت اس وقت تک ہے جب تک امام مصلیٰ کی طرف نہ جائے۔اور اس وقت میں بولنا یا اشارہ کرنا بھی منع ہے۔اشد ضرورت کے وقت یعنی دو سرا اگر شریعت کے کسی عظیم کو تو ڑ رہا ہو تو اسے اشارہ سے سمجھایا جاسکتا ہے مگر بولنے کی اس صورت میں بھی اجازت نہیں۔دوسرے مسجد میں سوائے ذکر الہی یا دینی اور قومی امور کے متعلق گفتگو کے ذاتی اور خانگی باتیں نہ کرنی چاہئیں کہ رسول کریم میں مذہبی قومی یا سیاسی باتیں تو کر لیتے تھے مگر ذاتی اور خانگی باتیں کرنا آپ کو سخت ناپسند تھا۔حتی کہ آپ نے فرمایا اگر کوئی مسجد میں سودا کرے تو خدا اس میں برکت نہ دے ھے یا کسی کی کوئی چیز با ہر گم ہو جائے اور وہ مسجد میں آکر اعلان کر دے تو خدا اس میں برکت نہ دے۔پس اس بات کا خیال رکھنا تو چاہئے کہ مسجد میں ذاتی باتیں منع ہیں۔d الشورى : ١٢ الفضل ۷۔اپریل ۱۹۳۲ء) بخارى كتاب الجمعة باب انصات يوم الجمعة والامام يخطب ۵ ابوداود کتاب الصلوة باب التحلق يوم الجمعه مسلم كتاب الصلوة باب النهي عن نشد الضاله في المسجد