خطبات محمود (جلد 13) — Page 405
خطبات محمود ۴۰۵ سال ۱۹۳۲ء تبلیغ سے زیادہ اہم ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہو گا کہ جو زیادہ قابل ہیں ان کی تربیت پہلے ہونی چاہئے پھر کمزور تو رہ گئے۔پھر قابلوں میں سے زیادہ قابلیت رکھنے والوں کو پہلے لیا جائے گا۔اور پھر ان میں سے بھی زیادہ موزوں آدمی علیحدہ کئے جائیں گے۔اور اس طرح ہوتے ہوتے ہم ایک آدمی پر آجا ئیں گے۔اور اس کی بھی پوری طرح تربیت نہ کر سکیں گے۔آخر اسے بھی چھوڑ کر دنیا سے کنارہ کش ہو جائیں گے۔کیا یہ ممکن نہیں کہ جو شخص ہماری نگاہ میں تربیت کے لئے بہترین ہو وہ ناقص نکلے۔اور جسے ہم ناقص قرار دے کر علیحدہ کریں وہ فی الحقیقت زیادہ قابل ہو۔لیکن جب ہم تبلیغ کرتے ہیں تو گویا ایسے قلوب تیار کرتے ہیں جن میں تربیت کا احساس موجود ہے اور جتنے لوگ ہماری تبلیغ سے جماعت میں داخل ہوں گے ان سب میں تربیت کا جذبہ موجود ہو گا۔دوسرا امر جو اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہئے یہ ہے کہ تربیت کبھی اکیلے نہیں ہو سکتی۔انسان اپنے گردو پیش کے حالات سے متاثر ہوتا ہے اور اس کے اعمال کا حصر ایمان پر ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یونہی ملائکہ کتب رسل اور حشر نشر پر ایمان لانے پر اتنا زور نہیں دیا۔اور یہاں تک فرما دیا ہے کہ ان پر ایمان لاؤ ، وگرنہ نجات نہ پاسکو گے۔ان باتوں پر ایمان لانے کا حکم دینے میں حکمت ہے۔دراصل انسانی اعمال ایمان سے وابستہ ہیں۔اور جب تک ایک انسان ایمان میں کامل نہ ہو اس کے اعمال درست نہیں ہو سکتے۔اس لئے تبلیغ تربیت سے مقدم ہے۔جب تک ہمارے ہمسایہ کے گھر میں طاعون ہے ہم کبھی مامون نہیں ہو سکتے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ آؤ ہمسایہ کے گھر ، سے طاعون کو دور کریں تا ہمیں نہ آگے وہ تو بچ جائے گا۔لیکن جو خود ہی دوائیاں وغیرہ استعمال کرنے پر زور دیتا ہے اور ہمسایہ کے گھرتے اسے دور کرنے کی کوشش نہیں کرتاوہ ہر وقت خطرہ میں ہے۔تربیت پر بے شک زور دینا چاہئے۔مگر اتنا نہیں کہ اسے تبلیغ سے زیادہ اہم قرار دے دیا جائے۔اور جو ایسا کرتا ہے، اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے اس شخص کی جو ہمسایہ کے گھر سے طاعون دور کرنے کی تو کوشش نہیں کرتا مگر خود دوائیوں کے استعمال پر زور دیتا ہے۔تبلیغ بذات خود تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔اس سے اپنے نفس کی بھی تربیت ہوتی ہے اور گناہ مٹتے ہیں۔اور اگر ہم تبلیغ کو بند کریں گے تو گویا تربیت کے ذرائع محدود کر دیں گے۔پس تمام جماعتوں کو چاہئے کہ زیادہ زور اور ہمت سے تبلیغ شروع کریں۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جس کام کے کرنے کی نصیحت کی جائے اسے شروع کر کے باقی چھوڑ دیئے جائیں۔ہر امر کی طرف ہر احمدی کی توجہ ہونی چاہئے۔جس طرح آدمی گھر میں سب ضروریات کو دیکھتا ہے۔بیوی کا خیال کرتے ہوئے ماں باپ کو