خطبات محمود (جلد 13) — Page 407
خطبات محمود 50 سال ۱۹۳۲ء اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر امید اور یقین رکھو ر فرموده ۸ - اپریل ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں نیکی رکھی ہے اور یہ نیکی ہی ہے کہ باوجو د شیطان کی تمام کوششوں کے اور باوجود تاریکی کے فرزندوں کی تمام معیوں کے دنیا میں خوبصورتی نظر آتی ہے۔اور وہ اربوں ارب گناہ جو دنیا میں کئے جاتے ہیں باوجود ان کے دنیا پھر بھی اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان فضلوں کی نشان اور آثار معلوم ہوتی ہے۔ہم جب مذاہب کا معائنہ کرتے ہیں تو دنیا میں ہمیں سچائی کے ماننے والے بہت تھوڑے نظر آتے ہیں اور شیطانی تعلیموں کو ماننے والے بہت زیادہ لیکن باوجود اس کے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیا کو پیدا کیا تو لغو اور عبث پیدا نہیں کیا اور ہم سمجھتے ہیں کہ جس مقصد کے لئے اللہ تعالٰی نے دنیا کو پیدا کیا وہ پورا ہو رہا ہے۔باوجود کفر کی زیادتی کے ہم ایسا کیوں خیال کرتے ہیں۔اس وجہ سے کہ گو کفر دنیا میں زیادہ دکھائی دیتا ہے، مگر در حقیقت ایمان کی طلب کفر سے بہت زیادہ ہے۔بظاہر جب ہم یقین اور وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ دنیا کی تمام ترقیات اسلام کے ساتھ وابستہ ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کا آخری شرعی کلام قرآن مجید ہے اور اس پر عمل کئے بغیر لوگوں کی نجات ممکن نہیں تو لازما ہمیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ ایک عیسائی حق سے دور اور خدا کے قرب سے محروم ہے، ایک سکھ خدا سے دور اور اس کی رضاء سے بے نصیب ہے ، ایک یہودی خدا سے دور اور صداقت پر عمل نہیں کر رہا پھر یہ بھی صاف بات ہے کہ مسلمانوں میں سے جو لوگ بد اعمالیوں میں مبتلاء ہیں اگر ان کو علیحدہ نہ بھی کیا جائے اور سب کو پکا مسلمان سمجھ لیا جائے تب بھی تمام