خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 243

۲۳ خطبات محمود حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے لوگ بجائے یہ حسرت پیدا کرنے کے کہ کاش خدامل جاتا ازادہ کریں کہ ہم خدا کو مل کر رہیں گے اور اس کے لئے کوشش اور سعی کریں تو انہیں ضرور خداہل جائے کیونکہ انہیں خیال پیدا ہو گا کہ جب ہم خدا سے ملنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے لئے تیاری بھی کرنی چاہئے۔اور جب وہ اس پر غور کرتے تو انہیں کچھ نہ کچھ باتیں اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے ضرور سوجھ جائیں۔اور جب انسان ارادہ کر کے اپنا ایک قدم اٹھاتا ہے تو اسے اللہ تعالٰی دوسرا قدم اٹھانے کی بھی توفیق دے دیتا ہے۔یہاں تک کہ وہ قدم اٹھاتے اٹھاتے اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی محبت کا مقام ہے۔پس میں ان لوگوں کو جو خدا تعالٰی سے ملنے کی آرزو رکھتے ہوں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے دلوں سے حسرت نکال دو۔اگر حسرتوں میں ہی مبتلاء رہے تو خدا چھوڑ اس کے فرشتے بھی نہیں مل سکیں گے بلکہ فرشتے چھوڑ ان کے آثار بھی تمہیں دکھائی نہیں دے سکیں گے۔خدا سے ملنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ بجائے افسوس کرنے کے کہ ہائے ہمیں خدا نہیں ملا ارادہ کرو کہ ہم ضرور خدا تعالیٰ سے مل کر رہیں گے پھر دیکھ لو چند ہی دنوں کے اندر اندر کس طرح تمہارے نفس کے اندر تبدیلی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔خود بخود دل ایسی تدبیریں سو جھائے گا جو اللہ تعالیٰ کے قرب کے لئے ضروری ہوں گی۔خود بخود وہ امنگ اور ہمت پیدا کرے گا اور محنت سے کام کرنے کا جوش پیدا ہو گا۔پھر اس کے نتیجہ میں انسان ایسے مقام تک پہنچ سکتا ہے جو اس کی زندگی کا مقصد کا ہے۔مگر جب تک حسرتوں میں مبتلاء رہو گے اس وقت تک کبھی مقصد حاصل نہیں سکتا کیونکہ حسرت سوائے انسانی ہمت کو پست کرنے اور اس کے استقلال کو کمزور کرنے کے اور کسی کام نہیں آتی۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حسرتیں ہم منافق کے دل میں برا کیا کرتے ہیں امن کے دل میں حسرت پیدا نہیں ہوتی۔اس کے متعلق تو فرمایا لَا خَوفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُم يَحْزَنُونَ کی اس کے دل پر خوف اور حزن طاری ہی نہیں ہو تا۔بلکہ اگر اسکے ہاتھ سے کوئی چیز ضائع ہو جائے تو وہ کہتا ہے ماضی میرے ہاتھ سے نکل گیا اب مجھے مستقبل کے درست کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔ہزاروں مواقع جو انسان حسرتوں میں گزار دیتا ہے اگر بجائے ان کے بیسیوں منٹ بھی ارادوں میں صرف کر دے تو اس کی حالت میں عظیم الشان تبدیلی پیدا ہو جائے اور وہ کہیں کا کہیں پہنچ جائے۔مگر انسان اپنی زندگی کی قیمتی گھڑیوں کو محض حسرتوں میں گزار کر اپنے ارادے کو کمزور اپنی ہمت کو پست اور اپنے استقلال کو ضعیف کر دیتا ہے۔پس اللہ