خطبات محمود (جلد 13) — Page 244
خطبات محمود سلام سلام سال ۱۹۳۱ء تعالی سے ملنے کا اپنے دل میں ارادہ پیدا کرو اور یاد رکھو حسرتیں اپنے دل میں کبھی نہ آنے دو کیونکہ یہ منافقت کی علامت ہوتی ہے۔لیکن حسرت سے میری مراد وہ حسرت ہے جو ناکامی پر ہوتی ہے۔ایک حسرت خواہش کے رنگ میں پیدا ہوتی ہے انسان کہتا ہے کاش فلاں تبدیلی ہو جائے یہ حسرت بری نہیں بلکہ اچھی ہے جیسے اللہ تعالٰی بھی فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِهُ ونَ ٨ یہ حسرت ماضی پر غم کرنے کے لئے نہیں بلکہ موجودہ لوگوں گی انگیخت اور ان میں بیداری پیدا کرنے کے لئے ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت مخالفت کرنے والے کیوں تباہ ہوئے بلکہ یہ ہے کہ محمد م کے زمانہ کے لوگ عذاب الہی سے بچ جائیں۔پس اس حسرت کے حال یا استقبال پر کوئی ناگوار اثر نہیں پڑتا۔اور جو اس نیت کے ساتھ حسرت ہو کہ کاش لوگ دین کی طرف متوجہ ہوں وہ ہمت کو بڑھانے والی ہوتی ہے نہ کہ پست کرنے والی۔ان دونوں قسم کی حسرتوں کے اگر چہ الفاظ مشترک ہیں مگر ان کے معنوں میں اختلاف ہے۔بعض دفعہ ایک ہی لفظ ہوتا ہے مگر معانی کے اختلاف کی وجہ سے مفہوم بالکل بدل جاتا ہے۔مثلا درد کا لفظ ہے۔ایک شخص کہتا ہے میرے دل میں قوم کا درد ہے مگر دوسرا کہہ رہا ہوتا ہے کہ آج میرے پیٹ میں درد ہے۔اب کوئی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جو ان دونوں دردوں کا ایک ہی مفہوم لے بلکہ وہ شخص جو یہ کہے کہ میرے دل میں قوم کا درد ہے ہمارے دلوں میں اس کے متعلق ادب اور احترام کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور جو شخص یہ کہے کہ میرے پیٹ میں درد ہے اس کے متعلق ہمارے دلوں میں رحم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔پس اگر چہ حروف کے لحاظ سے درد کا لفظ ایک ہی ہے مگر ایک درد کے ماتحت ہم ایک کی عزت کرتے ہیں اور اس کا ادب اور احترام کرتے ہیں اور دو سرے کی حالت پر رحم کرتے ہیں۔قومی درد والے کے ہم محتاج ہوتے ہیں مگر پیٹ کے درد والا ہمار ا محتاج ہوتا ہے۔پس ایسی حسرت جو ماضی پر ہو وہ بری ہوتی ہے لیکن جو تحریک پیدا کرنے کے لئے ہو وہ نہ صرف اچھی ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکت کے نزول کی موجب بنتی ہے۔غرض ترقی کرنے اور اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کی زندگی کے ایام حسرتوں میں نہ گذر جائیں کیونکہ حسرتیں کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے بلکہ ارادوں اور ان کی تکمیل میں گزاریں۔کیونکہ وہ جو ارادے کرتے ہیں، وہی آگے کی طرف اپنا قدم بڑھایا کرتے ہیں۔الفضل ۱۰ ستمبر ۱۹۳۱ء)