خطبات محمود (جلد 13) — Page 242
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء مرنے سے پہلے کتنے لوگ ہیں جنہیں خدا مل جاتا ہے۔مختلف زمانوں میں ایسے لوگوں کی مختلف نسبتیں رہی ہیں۔مگر اس میں شبہ نہیں کہ خدا کو ملنے والے یہ نسبت ان لوگوں کے جنہیں خدا کا قرب حاصل نہیں ہو تا ہمیشہ کم ہوتے ہیں۔جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں خدا سے ملنے کا سچا ارادہ پیدا نہیں ہوتا۔وہ خیال جو ان کے دلوں میں خدا سے ملنے کا پیدا ہوتا ہے بطور حسرت کے پیدا ہوتا ہے بطور ارادہ کے پیدا نہیں ہو تا۔تم اپنے دلوں کو ٹولو اور سوچو کہ کیا خدا سے ملنے کا تمہارے دلوں میں اس طرح خیال پیدا ہوتا ہے کہ آج سے ہم خدا کو حاصل کر کے رہیں گے۔یا یوں پیدا ہوتا ہے کہ تم کہتے ہو ہائے خدا مجھے مل جائے۔ہائے خدا مجھے مل جائے۔یہ کہنا کہ ہائے خدا مجھے مل جائے یہ ارادہ نہیں بلکہ حسرت ہے اور حسرت بطور عذاب کے ہوتی ہے بطور رہنما کے کام نہیں کرتی۔پس ایسے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے ملنے کی خواہش بطور ارادہ کے پیدا نہیں ہوئی ہوتی بلکہ حسرت کے رنگ میں پیدا ہوتی ہے اور حسرت ہمیشہ ماضی کے متعلق ہوا کرتی ہے۔اگر ہم کسی سے ملنا چاہیں اور وہ ہمیں اب تک نہ ملا ہو تو وہ شخص مستقبل میں ہمیں مل سکتا ہے اور آج اگر حاصل نہیں تو آنے والے کل میں حاصل ہو سکتا ہے مگر آنے والے کل کے متعلق ہمارے دل میں حسرت پیدا نہیں ہوگی بلکہ ملنے کا ارادہ پیدا ہو گا۔مگر ہمارا یہ کہنا کہ کاش مجھے فلاں مل جاتا یہ چونکہ گزشتہ زمانہ سے تعلق رکھتا ہے اس لئے یہ ارادہ کے رنگ میں نہیں بلکہ حسرت کے رنگ میں دل میں خیال اٹھتا ہے وگر نہ اگر یہ یقین ہو کہ وہ اب بھی مل سکتا ہے تو حسرت کی کیا ضرورت ہے۔انسان کہے گا آج اگر فلاں شخص نہیں ملا تو نہ سہی کل مل جائے گا۔پس لوگوں کے دلوں میں خدا سے ملنے کی خواہش تو ہوتی ہے مگر وہ حسرت کے رنگ میں ہوتی ہے ارادہ کے رنگ میں نہیں ہوتی۔اگر ارادے کے ساتھ ایسی خواہش انکے دل میں پیدا ہوتی تو یقینا اس کے لئے وہ تیاری اور کوشش بھی کرتے۔ایک شخص جو یہ کہتا ہے کل میری فلاں چیز ضائع ہو گئی وہ اس کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتا کیونکہ جانتا ہے کہ وہ چیز اب مجھے نہیں مل سکتی ہاں اسکی حسرت پیدا ہوتی ہے۔یا اسی طرح جو لوگ اپنے فوت شدہ والدین کو یاد کرتے ہیں وہ ان سے ملنے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ جانتے ہیں وہ نہیں مل سکتے اسی وجہ سے ان کا کام حسرت اور افسوس کرنا ہوتا ہے۔لیکن جس کے ہاں اولاد نہ ہو چونکہ اسے امید ہوتی ہے کہ بچہ پیدا ہو جائے اس لئے وہ خود دعائیں کرتا اور دوسروں سے کراتا ہے نیز علاج معالجہ بھی کرتا ہے۔تو مستقبل کے لئے کوشش کی جاتی ہیں اور ماضی کے متعلق حسرت ہوتی ہے۔اگر اس