خطبات محمود (جلد 13) — Page 238
سال ۱۹۳۱ء ٢٣٨ 27 خدا تعالیٰ سے ملنے کی حسرت نہیں بلکہ ارادہ پیدا کرو (فرموده ۴- ستمبر ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔دنیا میں یہ سوال عام طور پر پایا جاتا ہے کہ کیا خدا تعالیٰ مل سکتا ہے؟ یہ قدرتی امر ہے کہ اگر کوئی شخص دہریہ نہ ہو اور خدا تعالیٰ کی ہستی کا قائل ہو تو اس کے دل میں اس قسم کا سوال کبھی نہ کبھی پیدا ہو۔دیکھ لو دنیا کی اچھی چیزوں کے دیکھنے کی خواہش ہر انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔مثلا لوگ خواہش کرتے ہیں کہ ہم فلاں اچھی عمارت دیکھیں۔یا میدانی علاقوں میں رہنے والے کہا کرتے ہیں اگر ہمیں موقع ملے تو پہاڑوں کی سیر کریں۔یا پہاڑوں میں رہنے والے خواہش کرتے ہیں کہ ہم میدانی شہروں کو دیکھیں۔یا خشکی کے رہنے والے کہتے ہیں ہم سمندروں کی سیر کریں۔یا سمندروں میں رہنے والے بسا اوقات آرزو کیا کرتے ہیں کہ اگر ہمیں چھٹی ملے تو ہم خشکی کے لطف اٹھا ئیں۔اسی طرح لاکھوں اور کروڑوں چیزیں ہیں جن کی انسان خواہش کرتا ہے اور خصوصاً ایسی چیزوں کی جن کی نسبت اسے خیال ہوتا ہے کہ ان کے ملنے میں مشکلات ہیں۔حتی کہ ہر انسان دو سرے انسان کی کیفیت کو جو کہ اس پر مخفی ہوتی ہے حاصل کرنے کی خواہش کرتا ہے۔امراء خیال کرتے ہیں غریب بڑے مزے میں ہیں انہیں کسی قسم کا غم و فکر نہیں نہ انہیں چور کا ڈر ہے نہ ڈاکے کا خوف اور نہ گورنمنٹ کے ٹیکسوں سے ہراساں۔پھر ان کی صحتیں کیسی اچھی ہوتی ہیں کیسے محنتی اور مضبوط ہوتے ہیں یہ لوگ اپنے گھروں میں خوش رہتے ہیں لیکن اگر غریبوں سے پوچھو تو وہ کہیں گے ہماری بھی کوئی زندگی ہے جیسے جانور ہیں ویسے ہی ہم ہیں بلکہ جانوروں کا بھی ان کے مالک کچھ نہ کچھ خیال کرتے ہیں مگر ہمیں تو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔زندگی ہے