خطبات محمود (جلد 13) — Page 237
خطبات محمود ۲۳۷ سال ۱۹۳۱ء کو حاصل کرلے تو سب لوگ کہیں آؤ ہم بھی جنت میں داخل ہو جائیں۔عام لوگ چونکہ دنیا میں دوزخ ہی دوزخ دیکھتے ہیں اس لئے خود کشیاں کر لیتے ہیں۔لیکن اگر وہ جنت دیکھیں تو کبھی خود کشی نہ کریں۔اگر احمدی یہ جنت پیدا کریں تو دنیا کے لوگ ہماری طرف جلد جھک جائیں یہ جنت پیدا کرنا تو بڑی بات ہے ابھی ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے ہیں۔خدائی کے ذریعہ ایک جنت قائم کرتا ہے اب اگر ہم اپنے بھائیوں سے لڑیں تو اس قائم کردہ جنت کے درختوں کو اپنے ہاتھوں کاٹنے والے ہوں گے۔کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرے ایک درخت کاٹنے سے کیا ہو گا کیونکہ اگر ہر ایک ایسا ہی کہے تو دیکھ لو سب جنت کے درخت کاٹے جائیں گے۔پھر خدا ایک اور نبی قائم کرے گا تا وہ جنت بنائے۔ادنیٰ سے ادنیٰ مقام صالح کا ہے یعنی وہ جو خدا کے قائم کردہ ماحول سے مناسبت پیدا کرتا ہے۔پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے اعمال اور اقوال میں اپنے ماحول سے مناسبت پیدا کریں اور صالح بنیں۔اگر ایسا نہیں کر سکتے تو کم از کم صالح بننے کی صلاحیت تو پیدا کریں کیونکہ خدا کوشش کو دیکھتا ہے۔میں تو یہ بات ہرگز قبول نہیں کر سکتا کہ جو شخص بدی کا مقابلہ کرتا ہوا مارا جائے وہ غالب نہ ہو اور خدا اس کی مغفرت نہ کرے گا۔پس ہمارے دوست کم از کم صالح بننے کی صلاحیت کے لئے جدو جہد کریں۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری سب جماعت کو توفیق دے کہ وہ ان مراتب کے حصول کے لئے کوشش کریں اور پھر ہر ایک کو ان چاروں مراتب میں سے کوئی نہ کوئی درجہ ضرور دے۔الفضل ۱۸ اگست ۱۹۳۱ء) الفاتحة 1 الفاتحة النساء 0