خطبات محمود (جلد 13) — Page 239
خطبات محمود ۲۳۹ سال ۱۹۳۱ء تو امیروں کی ہر وقت ان کی خدمت کے لئے نوکر چاکر حاضر رہتے ہیں۔سارا دن آرام سے گزارتے ہیں اور جس چیز کو دل چاہا حاصل کر لیتے ہیں۔غرض امیر کے دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ غریب کی حالت مجھے سے بہتر ہے اور غریب کہتا ہے امیر مجھے سے اچھا ہے یہ دونوں اپنی جگہ ایک دوسرے پر رشک کرتے اور حسد کی نظر سے دیکھتے ہیں۔غرض جو چیز انسان کو نہ ملی ہو اور اسے امید ہو کہ وہ مل سکتی ہے اس کی ضرور خواہش کرتا ہے۔جب ہر چیز حتی کہ ادنی چیزوں کی خواہش بھی انسان کے دل میں پائی جاتی ہے تو کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص خدا پر ایمان لائے اور اس کے دل میں کبھی یہ تڑپ پیدا نہ ہو کہ میرا خدا مجھے مل جائے۔شاعر جسے انسانوں کی ذہنیت کے باریک احساسات کے سمجھنے کا فخر حاصل ہوتا ہے اور جس کی نسبت لوگوں کو بھی یقین ہوتا ہے کہ وہ انسان کے باریک در بار یک احساسات محسوس کرتا ہے وہ کبھی انتہائی جوش میں ایک جنگلی ہرن کو دیکھتا اور اس پر رشک کرتا ہے ، کبھی اڑنے والی چڑیوں کو دیکھتا اور ان کو اپنے سے بہتر قرار دیتا ہے ، کبھی پھول کو مخاطب کرتا اور اسے کہتا ہے تو کیسے آرام میں ہے ، پھر کبھی تیتریوں کو دیکھ کر ان سے باتیں کرنے لگ جاتا اور کہتا ہے تم مجھ سے اچھی ہو۔غرض انسانی دماغ کی کھلی کتاب کو پڑھنے والا شاعر تیتر یوں بلبلوں کو ملوں، پھول کی پنکھڑیوں اور گھاس کی پتیوں پر نظر ڈال کر اپنے آپ کو ان سے ادنیٰ قرار دیتا اور ان پر رشک کرتا ہے۔جب اشرف المخلوقات انسان ان چیزوں پر رشک کرتا ہے تو کیونکر ممکن ہے ایک انسان خدا پر ایمان لائے اور اس کے دل میں اس کے ملنے کی خواہش نہ پیدا ہو۔اگر گھاس کی پتی اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکتی ہے، اگر ہرن کا کلیلیں بھرنا اس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے ، اگر بلبل کا نغمہ اس کی توجہ کو کھینچ سکتا ہے، اگر کو ئل کی گو گو اس کی توجہ کو کھینچ سکتی ہے ، اگر نسیم کے جھونکے اس کی توجہ کو کھینچ سکتے ہیں تو خدائے واحد اس کی توجہ کو کیوں کھینچ نہیں سکتا اور کیوں اس کے دل میں ایک حسرت انگیز خواہش پیدا نہیں ہوگی کہ کاش میں خدا سے ملوں۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ خواہش انسان کے دل میں ضرور پیدا ہوتی ہے۔مگر جہاں انسان کے اندر یہ ایک مرض ہے کہ وہ ہر چیز کی خواہش کرتا ہے وہاں اس کے اندر ایک یہ بھی مرض پایا جاتا ہے کہ وہ دوسرے کی برتری کو قبول نہیں کرتا۔وہ ہمیشہ سمجھتا ہے جو کچھ میں جانتا ہوں وہ دوسرا نہیں جانتا۔بڑے سے بڑا عقل مند جس نے اپنی زندگی ایک کام کے سمجھنے اور اس کی عمیق تہ تک پہنچنے میں مصروف کر دی ہو جس وقت اپنا تجربہ بیان کر رہا ہو گا چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی اس پر اعتراض کر دے گا اور کہے گا