خطبات محمود (جلد 13) — Page 654
خطبات محمود ۶۵۴ 77 اسلام ہی زندہ خدا پیش کرتا ہے فرموده ۲۳- دسمبر ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ اسا اسلام نے جس خدا کا یا صیح لفظوں میں ہو کہنا چاہے کہ جو خدا تعالی کا نہ ہمارے سامنے خدا یوں وں جو کا نقشہ ہمارے پیش کیا ہے یا اس کی صفات بیان فرمائی ہیں وہ ایسی ہیں کہ ان کو مد نظر رکھتے ہوئے دنیا میں کسی قسم کا تعصب اور کسی قسم کا فساد باقی رہ ہی نہیں سکتا۔ یورپ کے بعض مصنفین نے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خدا تعالٰی نے بندے کو پیدا نہیں کیا بلکہ بندے نے خدا کو پیدا کیا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی ایسا لو کیا خدا موجود نہیں جس نے روح اور مادہ کو پیدا کیا ہو بلکہ انسانی دماغ نے بعض حالات سے متاثر ہو کر یعنی کبھی خوف کے جذبہ کے ماتحت کبھی امید کے جذبہ کے ماتحت کبھی اس خیال سے کہ میری مشکلات کو کون دور کرے گا اور کبھی اس خیال ہے سے کہ کہ میری میری قربانیوں قربانیوں کا کا بدلہ بدلہ دینے دینے والی والی کوئی کوئی ذات ہونی چاہئے، خود بخود ایک ذہنی وجود گھڑ لیا اور اس کا نام خدا رکھ دیا۔ پھر خود بخود ہی مطمئن ہو گیا اور خیال کرنے لگا کہ یہ ہستی مجھے خطرات سے بچائے گی میری قربانیوں کا بدلہ دے گی اور پیش آمدہ مصائب میں میری حفاظت کرے گی۔ جن مشکلات سے مجبور ہو کر دہریت کی طرف مائل انسانوں نے یہ خیال کیا کہ خدا نے انسان کو پیدا نہیں کیا بلکہ انسان نے خدا کو پیدا کیا ہے وہ اتنی زبر دست مشکلات ہیں اور ایسا مؤثر فلسفہ ہے کہ بعض خدا پرستوں کے اگر دل میں یہ بات نہیں کہ خدا نے انسان کو پیدا نہیں کیا بلکہ انسان نے خدا کو پیدا کیا ہے تو کم از کم اس کے مشابہہ ایک اور چیز ان کے ذہنوں میں ہوتی ہے جس میں خدا کے وجود کو تو تسلیم کر لیا جاتا ہے مگر اس خیال کو