خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 655 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 655

خطبات محمود ۶۵۵ سال ۱۹۳۲ء بھی کلیتارد نہیں کیا جا سکتا۔یورپ کے وہ لوگ جو دہریت سے تعلق نہیں رکھتے انہوں نے کہا ہے کہ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ خدا نے انسان کو پیدا نہیں کیا اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان نے خدا کو پیدا کیا ہے مگر ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ خدا نے انسان کو پیدا کیا اور انسان نے اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے خدا کو ایک نئی صورت دے دی۔گویا جب خدا نے انسان کو انسان بنایا تو انسان نے اس کا احسان نہیں رکھا بلکہ اس نے بھی خدا کو ایک نئی صورت دے دی۔وہ امر جس کی وجہ سے یورپین لوگوں کو یہ غلطی لگی یہ ہے کہ مختلف ملکوں اور مختلف قوموں کے لوگوں نے اللہ تعالٰی کی ہستی کے متعلق ایسے خیالات رکھے جن میں صراحتاً اختلاف موجود ہے۔ہندوؤں نے جو خدا کی شکل پیش کی ہے وہ اس سے مختلف ہے جو جینیوں نے پیش کی۔اور جو جینیوں نے خدا تعالیٰ کی ایک ذہنی تصویر اتاری ہے، وہ اس سے مختلف ہے جو بدھوں نے اتاری ہے۔اور جو بدھوں نے اللہ تعالی کی شکل بنائی وہ زرتشتیوں کے خدا کی صورت سے مختلف ہے۔اسی طرح زرتشتیوں نے اللہ تعالٰی کی جو صورت بنائی وہ اس سے مختلف ہے جو یہود نے بنائی۔اور یہود کی بنائی ہوئی صورت عیسائیوں کی تیار کردہ صورت سے مختلف ہے۔اور عیسائیوں کی تجویز کردہ صورت سے وہ صورت بالکل مختلف ہے جو اسلام نے اللہ تعالیٰ کے متعلق پیش کی۔اب ایک مذہب سے ناواقف آدمی جب اللہ تعالی کی ہستی کے متعلق اس قدر اختلاف دیکھتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے۔اور وہ اس امر کو نہیں سمجھ سکتا کہ کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ باقی سب مذاہب کو خدا نے ترک کر دیا اور صرف ایک مذہب سے اپنے تعلق کو مخصوص کر لیا۔اور یہ کہ صرف ایک مذہب کی بچی راہنمائی ہی اللہ تعالی نے کی ہے اور باقیوں کے لئے سیدھے راستہ کے دروازے بند کر دیئے۔کیونکہ یہ بھی تو ظلم ہے کہ پیدا تو اس نے سب کو کیا ترقی کی قوتیں بھی سب کو دیں ، امیدیں بھی سب کے دل میں پیدا کردین مگر روحانی ترقی کرنے کے دروازے سوائے ایک مذہب کے سب کے لئے بند کر دیئے۔یورپین لوگ کہتے ہیں کہ دراصل اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی عقل سے خدا کی تصویر کھینچی اور اپنے اپنے ماحول کی وجہ سے اس میں تبدیلی کرتے چلے گئے۔یہودیوں نے خدا کو اپنے قومی کیریکٹر کے ماتحت دیکھا زرتشتیوں نے اسے اپنے کیریکٹر کے ماتحت دیکھا، عیسائیوں نے اسے اپنے حالات کے مطابق دیکھا جینیوں نے اسے اپنی ذہنیت کے ماتحت دیکھا غرض ہر قوم نے اپنے اپنے حالات کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی ہستی کو دیکھا اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نسبت مختلف مذاہب کی آراء میں اختلاف پیدا ہو گیا۔میں کہتا ہوں اچھا ہم فرض کر لیتے ہیں جو کچھ تم نے