خطبات محمود (جلد 13) — Page 622
خطبات محمود ۶۲۲ سال ۱۹۳۲ء ہمارے ۔ محفوظ نہیں ہو سکتی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں : اتعالیٰ کے فضل سے ہزاروں ہماری جماعت میں ایسے اشخاص تھے جنہیں کشوف اور الہامات ہوتے اور جو خداتعالیٰ کی وحی کے مورد تھے ۔ اب بھی ہمارے لئے اس سلسلہ کا جاری رکھنا ضروری ہے بلکہ جاری رکھنا نہیں کہنا چاہئے کیونکہ یہ وہی ہے کسی نہیں اس لئے یہ کہنا چاہئے کہ اس سلسلہ کا جاری رہنا ے لئے ضروری ہے الہام اور کشف کسب سے حاصل نہیں ہو سکتے جس طرح خدا تعالیٰ کا کوئی فضل کسب سے حاصل نہیں ہوتا۔ مگر جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل کو بعض نیکیاں جذب کرنے والی ہوتی ہیں اسی طرح الہام الہی کو بھی بعض نیکیاں جذب کرنے والی ہیں۔ اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتے ہیں اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَمِین کہنا الهام الہی کو جذب کرتا ہے ۔ خالص عبودیت جس میں شرک نہ ہو اور خالص تو کل یہ چیزیں ہیں جو الہام سے آشنا کر دیتی ہیں اس درجہ کے وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت سے فائدہ اٹھایا میں دیکھتا ہوں کہ وہ ایک ایک کر کے فوت ہو رہے ہیں لیکن مجھے انکے قائم مقام نظر نہیں آتے ۔ ہو سکتا ہے ایسے لوگوں کے قائم مقام پیدا ہو رہے ہوں اور مجھے ان کا علم نہ ہو لیکن جہاں تک میرا علم ہے اور میرا علم سلسلہ کے تمام طبقات تک وسیع ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ اب ایسے لوگ ہماری جماعت میں پیدا نہیں ہو رہے۔ نچی وحی کی علامت یہ ہے کہ وہ انسانی نفس کو بالکل مار دیتی ہے اور ایسا شخص کبر اور خیلاء سے بالکل بچ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں نہیں بولتا بلکہ خدا بول رہا ہے ۔ پھر ایسا شخص خدا تعالیٰ کا کامل عاشق ہوتا ہے۔ اس کا نفس اللہ تعالیٰ کی محبت میں اس قدر گداز ہوتا ہے کہ اس کی انانیت بالکل جاتی رہتی ہے۔ بالکل ممکن ہے ایسے لوگ ہماری جماعت میں اب بھی پیدا ہو رہے ہوں لیکن چونکہ میرا تعلق تمام جماعت سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ جماعت کس رنگ میں ترقی کر رہی ہے اس لئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کو اس طرف بہت ہی کم توجہ ہے حتی کہ ہمارے علماء کے دل میں بھی تڑپ موجود نہیں۔ وہ بحث مباحثہ کرنے لڑنے جھگڑنے ، باتیں کرنے اور جوابات دینے میں بہت مشاق ہوں گے مگر تضرع انکساری تبتل عاجزی خشیت اور محبت الہی ان میں نظر نہیں آتی اور یہ بہت بڑی کمی ہے جس کو پورا کرنے کی طرف انہیں توجہ کرنی چاہئے۔ رسول کریم اللہ فرماتے ہیں۔ ایمان کی اونی علامت یہ ہے کہ اگر مومن بندے کو آگ