خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 621

خطبات محمود سال ۶۱۹۳۲ کھٹکھٹایا اور اس کے لئے دروازہ کھولا گیا وہ تو ہر دفعہ دروزاہ کھٹکھٹائے گا۔لیکن وہ جس نے دروازہ تو کھٹکھٹایا لیکن اس کے لئے دروازہ کھولا نہ گیا وہ دوبارہ کھٹکھٹانے کا خیال بھی دل میں نہیں لائے گا۔پس اس کی امید نے چونکہ مشاہدے کی صورت اختیار کرلی ہے اس لئے یہ ہر وقت امید سے بھرا رہتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ پر غیر معمولی ایمان پیدا ہو جاتا ہے۔پس الہام اور وحی ایسی چیزیں ہیں جو انسانی قلب میں وثوق اور یقین پیدا کرتی ہیں۔اور جب یہ لذت کسی انسان کو حاصل ہو جاتی ہے تو وہ کسی اور لذت کی پرواہ نہیں کرتا۔اور جیسا یقین اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی اور الہام پر رکھتا ہے اور کسی پر نہیں رکھتا۔خواہ وہ اس کے دوستوں کی عقل بلکہ ان کا مشاہدہ ہی کیوں نہ ہو۔ہماری جماعت کو وحی اور الہام کی نعمت اور یہ مشاہدہ کی برکت ایسی ملی ہے جس کی جتنی بھی ہم لوگ قدر کریں کم ہے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کا ایک طبقہ ایسا ہے جو اب اس نعمت کے حصول سے بالکل غافل ہو رہا ہے ہزار ہا آدمی ہماری جماعت میں ایسے ہیں جو اس امر کو کافی سمجھتے ہیں کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں وہ کافی سمجھتے ہیں کہ روزے رکھتے ہیں وہ کافی سمجھتے ہیں کہ چندے دیتے ہیں لیکن اس امر کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ خدا تعالی ان کی ہر معاملہ میں راہنمائی کرنے اور ان سے ہمکلام ہو حالانکہ اللہ تعالی کے فضل سے یہ نمونے ہماری جماعت میں اب بھی موجود ہیں۔گو اپنی غلطی کی وجہ سے بعض لوگ اس نمونہ سے بھی گمراہ ہو جاتے ہیں۔دراصل ہر کمت کے ساتھ کچھ نہ کچھ گمراہی بھی لگی ہوتی ہے۔قرآن مجید کے متعلق بھی آتا ہے کہ يُضل به كَثِيرًا یہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے۔جب رسول کریم کے آخری شرعی کلام کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا تو زید اور بکر کے الہامات کیا چیز ہیں کہ ان سے گمراہی کا خطرہ نہ ہو۔بے شک ان سے بھی گمراہی ہو سکتی ہے۔لیکن جب وہ گمراہی خود اپنے نفس کے لئے ٹھوکر کا موجب ہو جائے تو یہ بہت زیادہ افسوسناک بات ہوتی ہے۔دوسروں کے لئے تو اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہروجی دوسروں میں سے کسی کے لئے ٹھوکر کا موجب بنتی ہے لیکن اگر کسی کے اپنے نفس کو ہی اس سے ٹھوکر لگ جائے اور اس میں کبر پیدا ہو جائے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہو گی جسے اچھے سے اچھا کھانا دیا گیا مگر جگر یا معدہ کی خرابی کی وجہ سے وہ اور زیادہ بیمار ہو گیا۔جب تک ایسے لوگ ہماری جماعت میں نہ ہوں جن کی دعا ئیں خاص طور پر اللہ تعالی کے حضور قبول ہوتی ہوں اور جن پر کشف اور الہام کا دروازہ کھلا ہوا ہو اس وقت تک ہماری جماعت