خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 623 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 623

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء میں بھی ڈال دو تب بھی وہ ایمان ترک کرنا گوارا نہ کرے۔جب ادنیٰ سے ادنی بشاشت ایمان دل میں پیدا ہو جانے پر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے اور اس قدر اس کے اندر عزم اور استقلال راسخ ہو جاتا ہے تو اعلیٰ ایمان پر جو کچھ انسانی قلب کی کیفیت ہو سکتی ہے وہ ظاہر ہے اسی قسم کے لوگوں میں سے جو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف رکھتے تھے اور جن کی وجہ سے مجھے اس خطبہ کی تحریک ہوئی۔مولوی عبدالستار صاحب افغان تھے جو ابھی پچھلے ہی ہفتہ فوت ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غیر ملک سے لاکر اس نعمت سے متمتع کیا۔وہ سید عبد اللطیف صاحب شہید کے شاگرد تھے اور ان کے ساتھ ہی سلسلہ میں داخل ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو کچھ اس قسم کا ایمان اور اخلاص عطا کیا تھا جو بہت ہی کم لوگوں کو میسر آتا ہے۔مجھے بچپن سے ہی جب سے وہ قادیان آئے ان سے انس رہا ہے اور میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی خاص موقعوں پر انہیں دعا کے لئے کہہ دیتے تھے جیسا کہ رسول کریم میں یہ بھی بعض دفعہ دوسروں کو دعا کے لئے کہہ دیتے اور جیسا کہ ہر مومن دوسرے مومن کو اپنے لئے دعا کی تحریک کرتا ہے۔چونکہ اللہ تعالی کے مامورین میں کبر نہیں ہوتا اور وہ خدا کے استغنائے ذاتی سے واقف ہوتے ہیں اس لئے دعا کے موقع پر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم مامور ہیں اور دوسرا غیر مامور بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سارے ہی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور نہ معلوم اس وقت اللہ تعالیٰ کس مونہہ کی دعا قبول کرلے۔مولوی عبد الستار صاحب کے متعلق میرا ایک تجربہ ہے جس کا میرے قلب پر آج تک اثر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے انہیں ایسا مقام عطا فرمایا تھا کہ وہ صحیح الہام پاتے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کے زمانہ میں جب میں نے دیکھا کہ جماعت میں تبلیغ کا پہلو نہایت کمزور ہو رہا ہے تو اس وقت میں نے تجویز کی کہ ہم ایک ایسی جماعت بنا ئیں جس کا فرض ہو کہ وہ دنیا میں تبلیغ کرے۔میں نے اس تجویز کا علم اس وقت تک کسی کو نہ دیا یہاں تک کہ اپنے گہرے دوستوں سے بھی اس کا ذکر نہ کیا تھا۔جہاں تک میرا خیال ہے صرف میں نے حضرت خلیفہ المسیح الاول سے اس کا ذکر کر دیا تھا۔لیکن بالکل ممکن ہے میں نے ان سے بھی ذکر نہ کیا ہو کیونکہ مجھ پر یہی اثر ہے کہ میں نے ابھی اس تجویز کا کسی سے ذکر نہیں کیا تھا۔پھر میں نے بعضوں کو استخارہ کے لئے اور بعضوں کو دعا کے لئے کہا۔جنہیں مجملا بتا دیا کہ کوئی دینی بات ہے اس کے لئے دعا کریں اس سے زیادہ میں نے کسی کے سامنے وضاحت نہ کی۔مولوی عبد الستار صاحب افغان کو بھی میں نے لکھا کہ میرے دل میں ایک مقصد ہے آپ اس کے لئے دعا کریں اور اگر آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف