خطبات محمود (جلد 13) — Page 47
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء لئے اسے بھیجا گیا۔ وہاں بھی اس نے بہت کامیابی حاصل کی اس کا طریق جنگ یہ تھا کہ وہ تو یہ خالہ پھیلانے کے بجائے سارا کا سارا ایک جگہ جمع کر دیتا تھا اور سب سے یکدم گولہ باری کراتا۔ وہ محاذ جنگ اس طرح قائم کرنا کہ ایک میل پر گولہ پھینکنے والی توپوں کو آگے رکھتا۔ دو میل پر پھینکنے والی توپوں کو ان سے ایک میل پیچھے اور تین میل پر گولہ پھینکنے والی کو دو میل پیچھے اس طرح تمام تو پیخانہ کھڑا کر کے سب سے ایک دم گولہ باری شروع کر دیتا گویا تمام کا تمام تو پخانہ ایک ہی مقام پر گولہ باری شروع کر دیتا۔ جس کا کوئی مقابلہ نہ کر سکتا نتیجہ یہ ہو تا کہ جس محاظ پر بھی وہ گیاد شمن کو سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ پس ایک طریق جنگ یہ بھی ہے اس کا بھی تجربہ کیا جائے۔ ان اضلاع میں جہاں جماعتیں قائم ہیں جیسے گورداسپور ، سیالکوٹ ، گجرات گوجرانوالہ لاہور امر تسر وہاں یکدم بہت سے مبلغ لگا دیئے جائیں۔ ایک ضلع پہلے لے لیا جائے اور وہاں اپنے تعلیم یافتہ مبلغین کے علاوہ آنریری مبلغین بھی جمع کر دیئے جائیں۔ آنریری طور پر کام کرنے والے باہر سے بھی آئیں جس طرح ملکانوں کے ارتداد کے وقت ہوا تھا۔ اور ایک ضلع میں ہی 100 کے قریب مبلغ اکٹھے کر دیئے جائیں جو تعلیم یافتہ تجربہ کار مبلغ ہوں ان کو جرنیل مقرر کر دیا جائے اور باقی ان کے ماتحت اور نائب ہوں اور مختلف حلقے مقرر کر کے تمام ضلع میں شور مچادیا جائے ۔ اس سے بھی بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ اب تو کسی رائے دستے کو تبلیغ کی جاتی ہے۔ وہ خیال کرتا ہے میں اگر احمدی ہو گیا تو باقی رشتہ دار کیا کہیں گے ۔ مگر جب سب رشتہ داروں کو اکٹھی تبلیغ ہو رہی ہو اور وہ ایک دوسرے ملتے وقت ذکر کریں کہ ہمارے ہاں بھی احمدی مبلغ آیا ہوا آیا ہوا ہے جو بہت عمدہ باتیں بیان کرتا ہے تو سب کہیں گے چلو احمدی ہو جائیں۔ اس طرح وہ ڈر جو اکیلے احمدی ہونے سے ہوتا ہے دور ہو جائے گا۔ اس ڈر کی وجہ سے بھی لاکھوں آدمی ضائع ہو جاتے ہیں۔ ہر جگہ اگر تحقیق کی جائے تو کئی لوگ ایسے ملیں گے جو ایک وقت احمدی ہونے کے لئے بالکل تیار تھے مگر کسی وجہ سے رک جانے کے باعث دور جا پڑے ۔ اور بعد میں ان میں سے بعض اشد مخالف بن گئے۔ پس اگر یکدم دھاوا بول دیا جائے تو ڈرنے والے رکیں گے نہیں اس طریق جنگ کا ملکانا تحریک میں تجربہ کر چکے ہیں اور اس سے آریوں جیسی منظم اور روپیہ والی قوم کو ایسی شکست دے چکے ہیں کہ اب اس پر آٹھ سال گزر چکے ہیں لیکن آر یہ اب بھی اس علاقہ کا رخ نہیں کرتے۔ کرتے ۔ اور وہ مالکا۔ ور وہ ملکا نے جن کو آریہ پر چارک کہا کرتے تھے تم آریدہ ہو کر ٹھا کر بن جاؤ گے ۔ اب وہ انہیں تلاش کر کر کے پوچھتے ہیں کہ اب کیوں بھاگ گئے ہو اور ہمیں ٹھا کر کیوں نہیں بناتے۔ پس اسی طرح یہاں بھی دو ایک اضلاع کو پر