خطبات محمود (جلد 13) — Page 485
خطبات محمود ۴۸۵ سال ۱۹۳۲ء عین ممکن ہے وہ کچھ نہ سیکھ سکے۔ اور دسرا ایک گھنٹہ پڑھ کر بہت کچھ یاد کرلے۔ میں اس بات کا قائل ہی نہیں کہ اگر دینی تعلیم کی طرف توجہ کی جائے تو دنیوی تعلیم میں حرج ہوتا ہے۔ ضرورت تو اس امر کی ہوتی ہے کہ طالب علم کے دل میں علم حاصل کرنے کی تڑپ پیدا کی جائے۔ اور اگر اسے اس شغف سے پڑھایا جائے تو وہ دو تین گھنٹہ میں ہی بہت کا ا بہت کافی پڑھ سکتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اگر کوئی پرانی بات بھی میرے مطلب کی ہو تو مجھے ہمیشہ یاد رہتی ہے۔ اگرچہ یوں میرا حافظہ قدرتی طور پر سمجھو یا صحت کی خرابی کی وجہ سے یا افکار کی زیادتی اور کاموں کی کثرت کی وجہ سے چیزوں کو زیادہ یاد نہیں رکھ سکتا۔ مگر کام کی چیز مجھے میں سال کے بعد بھی یاد رہتی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اسے پڑھتے یا سنتے وقت میں نے اس طرف دماغ کو متوجہ کیا تھا۔ دفتر ڈاک میں کام کرنے والے جانتے ہیں کہ بعض دوستوں کے خطوط کے جواب جب میں دو دو تین ماہ بعد لکھواتا ہوں تو کر رہے ہیں ۔ وہ میں افسر ڈاک کو بتا دیتا ہوں کہ اس نے یہ نہیں لکھا بلکہ یہ لکھا ہے اور آپ غلطی کر رہے ۔ مجھے نہیں بھولتی۔ پس میں اپنے تجربہ کی بناء پر بھی اور اس علم کی بناء پر بھی جو خدا تعالٰی نے انسانی فطرت اور دماغ کے متعلق مجھے دیا ہے۔ اور بغیر اس کے متعلق کوئی کتابیں پڑھنے کے مجھے ایسا بار یک علم عطا کیا ہے کہ بسا اوقات وہ الہام کے مقام تک پہنچ جاتا ہے ۔ انسان کی شکل دیکھتے ہیں اس کے تاثرات جذبات، احساسات ایسے بار یک طور پر میرے دل پر منکشف ہو جاتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ الہام خفی ہوتا ہے۔ اگر چہ جلی الہام نہیں کیونکہ یہ علوم میں نے نہیں پڑھے۔ پس اس علم کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر علم صحیح طور پر حاصل کریں یا کرائیں تو ہم وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو دوسرے نہیں کر سکتے ۔ اگر سکول کا عملہ اس بات کو مد نظر رکھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی تعلیم کو واضح کرنا اس سکول کا مقصد ہے تو دین کو حاصل کرتے ہوئے بھی وہ دنیا کو حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر چونکہ بنیاد درست نہیں ، اس لئے عمارت بھی کمزور تیار ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے طاعون کا ٹیکہ ممنوع قرار دیا ہے۔ اور یہ ایسی بات ہے جسے معمولی احمدی بھی جانتا ہے۔ اگر چہ حضور نے اجازت دی ہے کہ کمزور ایمان کا احمدی یا جسے حکام حکم دیں ٹیکہ کر اسکتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کوئی احمدی اسے گوارا نہیں کر سکتا۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر کسی کو عملاً طاعون ہو بھی جائے اور اسے ٹیکہ کرانے سے آرام ہوتا ہو تو بھی ایک مخلص احمدی اسکی جرات نہیں کرے گا۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ وہ سکول جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو قائم کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا اس میں استادوں نے سامنے