خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 486

۴۸۶ سال ۱۹۳۲ء محمود خطبات بیٹھ کر لڑکوں کو ٹیکے لگوائے۔بلکہ بعض استادوں نے خود بھی لگوائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی صداقت کا نشان قرار دیا ہے کہ خدا تعالٰی نے وعدہ کیا ہے وہ ٹیکہ کے بغیر ہماری جماعت کی حفاظت کرے گا اور آپ کے زمانہ میں شاید سو میں سے اس احمدی اسی نشان کے ذریعہ احمدی ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزاحیہ طور پر فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کا اکثر حصہ طاعونی ہے۔تو وہ عظیم الشان نشان جس کا ذکر آپ کی قریباً ہر مجلس میں ہو تا تھا اور جسے آپ نے قریباً تین کتب میں نہایت وضاحت سے بیان فرمایا ہے صریح طور پر اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔بلکہ زور دے کر اس نشان کو مشتبہ کیا گیا ہے۔اس قسم کی کھلی نا فرمانی بتاتی ہے کہ خود اساتذہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب نہیں پڑھتے۔اور مزید حیرانی یہ ہے کہ جب انجمن کے افسر نے اس کے متعلق پوچھا کہ کیوں ایسا کیا گیا تو اسے ایسا جواب دیا گیا جو اخلاق بھی معیر رہا ہے اور صداقت سے بھی دور ہے۔اخلاقا اس لئے کہ افسر کو ایسا جواب نہیں دینا چاہئے۔کہا گیا کہ آپ کا اعتراض فضول ہے ہم نے ایک ایسے آدمی سے پوچھ لیا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو آپ سے دس گنا زیادہ جانتا ہے۔یہ جو اب بہت ہی گری ہوئی اخلاقی حالت کو ظاہر کرتا ہے اور پھر صحیح بھی نہیں۔اگر کسی عالم نے یہ کہا ہے تو وہ دس گنا زیادہ کیا ہزار گنا کم بھی نہیں جانتا۔ایسے کھلے نشان کا منکر احمدی مولوی کیسے ہو سکتا ہے۔میں سمجھ گیا تھا کہ یہ کون سا مولوی ہے۔اور میں نے خود اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ میں نے یہ کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت دی ہے کہ جو کمزور ایمان والے ہوں یا جن کو حاکم کا حکم ہو ، وہ ٹیکہ لگوالیں اور یہ جواب صحیح ہے۔پس جب تک یہ روح نہ بدلے گی اس وقت تک قطعی طور پر دہ نتیجہ نہیں پیدا ہو گا جس کے لئے یہ سکول قائم کیا گیا ہے۔ممکن ہے اساتذہ ہمیں بے وقوف اور جاہل سمجھیں۔مگر دنیا میں ان سے بہت زیادہ عالم اور تعلیم یافتہ ہمیں جاہل سمجھتے ہیں۔مگر ہم خدا کے فضل سے انہیں روزانہ شکست دے رہے ہیں۔ان سے بڑھ کر ان کا قلعہ مضبوط نہیں ہو سکتا۔اگر انکے اندر تبدیلی نہ ہوئی تو جماعت کے نوجوانوں میں ایسی روح پیدا ہو جائے گی کہ وہ اس قلعہ کو پاش پاش کر دیں گے۔ہم وائیت اور شیدائیت چاہتے ہیں۔ہمیں ان طالب علموں کی ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فدائی ہوں ، اسلام کے شیدائی ہوں رسول کریم ل ا ل ل وی کے نام پر جان دینے والے ہوں ، قرآن مجید کے عاشق اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ جاری رکھنے والے ہوں خواہ دنیوی لحاظ سے وہ کامیاب ہوں