خطبات محمود (جلد 13) — Page 430
خطبات محمود ٣٣٠م سال ۱۹۳۲ء صرف عقل خداشناسی کے لئے کافی ہوتی تو الہام الہی کی ضرورت نہیں تھی، اسی طرح اگر صرف جذبات خدا کی معرفت حاصل کرنے کے لئے کافی ہوتے تو اللہ تعالی کے کلام کی کوئی ضرورت نہ بات خدا کی معرفت حاصل کرنے کے تھی۔ مگر کلام الہی نے آکر بتا دیا کہ یہ دونوں چیزیں بغیر ایک تیسری چیز کے ساتھ ملے نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔ اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔ فلسفی کز عقل ہے جو کہ ترا دیوانہ ہست وہ فلسفی جو تجھے صرف عقل کے ذریعہ پہچاننا چاہتا ہے دیوانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت انسان جب بھی پائے گا الہام الہی کی روشنی میں پائے گا۔ پس یاد رکھو دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک حقیقی ترقی نہیں کر سکتی جب تک الهام اللہ کے درجہ کو مقدم نہیں کر لیتی ۔ احمدیت اس امر کی صداقت کا زندہ نشان ہے اور چیلنج ہے مذہب کی طرف سے تمام فلسفیوں کو اور عقل کے پیروؤں کو کہ تمہاری عقل نارسا اور اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے ناکافی ہے۔ لیکن باوجود اس کے کہ احمدیت اسی بنیاد پر قائم کی گئی ہے اگر ہماری جماعت کے افراد بھی عقل کو الہام الہی پر مقدم کرنے لگیں اور وہ بھی کوتاہ نگاہ فلسفیوں کی طرح ہر روحانی چیز کو اپنی عقل کے پیمانہ سے ناپنا چاہیں تو وہ اپنی غرض کو خود باطل کرنے والے ہوں گے ۔ احمدیت کی اسی لئے ضرورت ہے کہ دنیا کو الہام الہی کی ضرورت ہے۔ اور الہام جذبات اور عقل کے درمیان ثالث اور منصف کی حیثیت میں ان سے صحیح کام کراتا ہے ۔ خالص جذبات ہماری رہنمائی کے لئے کافی ہوتے تو میں الہام الہی کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح اگر صرف عقل کافی ہوتی تب بھی ضرورت نہیں تھی بلکہ الہام کی اس وقت ضرورت محسوس ہوتی ہے جب ہم تسلیم کر لیں کہ عقل کسی جگہ رہ جاتی ہے اور جذبات کسی جگہ کام دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پس یہ کہنا کہ ہم دنیا کے فلسفیوں کی طرح عقل کی اندھا دھند تقلید کریں گے خطرناک غلطی ہے۔ میں فرض محال کے طور کے طور پر کہتا ہوں اگر عقل یہ کہتی ہو کہ دنیا کا کوئی خدا نہیں ہونا چاہئے تو وہ عقل نہیں دیوانگی اور مجنونانہ بڑ ہے۔ اور اگر فرض بھی کر لو کہ ایسا کہنے والے عقلمند ہوں تب بھی انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ اگر وہ کسی مذہب کے قائل ہیں تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی عقل ناقص اور ادھوری ہے ۔ ورنہ وہ مذہب کی ضرورت کو خود باطل کر رہے ہوں گے۔ پس وہ بے وقوف شخص ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر ایک طرف مذہب ہے اور دوسری طرف عقل تو ہمیں عقل کو اختیار کرنا چاہئے۔ کیونکہ اگر چہ اللہ تعالی کا الہام عقل کے