خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 429

خطبات محمود ۴۲۹ مفید - کیا وجہ ہے کہ اسلام کے بعد ہی انہیں اس کا خیال آیا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلام کی تعلیم ان کے کانوں پر متواتر پڑتی رہی۔اور جب انہیں اپنی تعلیم میں خامیاں دکھائی دیں تو انہوں نے اسلامی تعلیم سے فائدہ اٹھایا۔مگر منسوب اسے اپنے تجربہ کی طرف کر لیا۔پس الہام الہی ایک نہایت ہی زبر دست انقلاب پیدا کرنے والی چیز ہے۔میں اس وقت الہام الہی کے فوائد بیان کرنے نہیں کھڑا ہوا میرا مدعا یہ ہے کہ ہم جب عقل پر زور دیتے ہیں تو محض اس لئے کہ الہام عقل کی راہ بتاتا ہے۔ورنہ جب ہم الہام الہی پر یقین رکھیں تو خواہ لاکھوں عقلیں اس کے خلاف کہیں ہمیں بہر صورت الہام الہی کو مقدم کرنا پڑے گا۔بفرض محال ہمیں خدا تعالیٰ کا کلام اگر یہ کہے کہ دنیا میں سورج نہیں تو خواہ ہماری عقل لاکھ کے کہ سورج ہے تب بھی ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یا تو واقعی سورج نہیں یا ہم سورج کا جو مفہوم سمجھتے رہے تھے وہ غلط ہے۔کیونکہ خدا کا قانون تو یہ کہتا ہے کہ سورج ہے اور اس کا قول کہتا ہے کہ نہیں تو چونکہ خدا کے قول و فعل میں اختلاف نہیں ہو سکتا اس لئے سورج کا مفہوم ہم غلط سمجھتے ہیں۔اسی طرح ہم علم طبیعات کا احترام کرتے ہیں۔مگر اس لئے نہیں کہ اس میں غلطیاں نہیں بلکہ اس لئے کہ خدا کا کلام کہتا ہے کہ صحیح طبیعات خدا کے قول کے خلاف نہیں ہو سکتیں۔اور چونکہ خدا کا کلام یہ کہتا ہے اس لئے ہم اس علم کا احترام کرتے ہیں۔اسی طرح عقل کی بھی ہم قدر کرتے ہیں۔مگر وہ عقل جو الہام الہی کے خلاف ہو وہ عقل نہیں بیوقوفی ہے۔پس خوب یا د رکھو ابھی کلام سب سے مقدم چیز ہے اور جو لوگ خدائی الہام کے خلاف چل کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے لئے کوئی اور عمدہ تعلیم بنا سکیں گے وہ خطرناک غلطی میں مبتلاء ہیں۔آج تک کے دنیا کے تجربہ نے بتادیا ہے کہ جو لوگ الہام الہی کے خلاف چلتے ہیں وہ نقصان اٹھاتے ہیں۔اور آخر انہیں ٹھوکریں کھا کھا کر اسلام کی طرف آنا پڑتا ہے۔کروڑوں کروڑ لوگوں نے تجربہ کیا اور انہیں دھکے کھا کھا کر اسلام کی طرف لوٹنا پڑا اور انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ اسلامی تعلیم ہی افضل ہے۔اب جو شخص کہتا ہے کہ میں بھی اپنی عقل سے کام لے کر دیکھوں ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے الہام نے غلط کیا ہو۔اپنی عقل پر سوائے رونے کے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔پس دنیا کی ترقی کا دارو مدار اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا حصول الہام الہی پر ہے۔یہاں صرف عقل بالکل رہ جاتی ہے اور اس کا دائرہ عمل نہایت محدود ہو جاتا ہے۔جذبات کے لئے بھی ایک میدان ہے اور عقل کے لئے بھی۔اور ان دونوں میں جو چیز صلح کراتی ہے وہ ایسا مذ ہب ہے جو کلام الہی پیش کرے۔اگر