خطبات محمود (جلد 13) — Page 431
ملیات محمود ٣١ سال ۱۹۳۲ء خلاف نہیں ہو تا مگر یہ ضروری نہیں کہ انسانی عقل ہر قسم کی غلطی سے منزہ ہو۔ہمیں چاہئے کہ ہم خدا کے کلام کو سوچیں اور اس پر غور کریں اور پتہ لگائیں کہ کہیں ہم سے تو اس کے معنے سمجھنے میں غلطی نہیں ہوئی۔اور اگر اپنے آپ اپنی غلطی سے آگاہی نہ ہو تو زندہ انسانوں سے دریافت کرے اور کہے کہ میں تو خدا کے کلام کا یہ مفہوم سمجھتا ہوں مگر مجھے یہ خدا کے فعل کے خلاف دکھائی دیتا ہے آپ بتائیں۔پھر اگر وہ کوئی درست راہ بتا ئیں تو اس کے پیچھے چلے۔ورنہ پھر اپنے بزرگوں کی کتابیں دیکھے کہ انہوں نے کیا لکھا ہے اور اگر اس تمام تحقیق کے بعد اسے معلوم ہو کہ خدا کے کلام کا وہی مفہوم ہے جو اس نے سمجھا تو وہ اس کو اختیار کرے۔اور عقل کی ٹھو کر اس کی کو تاہی اور کمزوری پر محمول کرے اور اگر اسے تحقیق و تجس کے بعد معلوم ہو کہ خدا کے کلام کا مفہوم سمجھنے میں اس سے کو تاہی ہوئی ہے تو وہ نئے معانی کے ماتحت خدا کے قول اور فعل کو متحد کردے اور اگر کسی صورت میں بھی اسے تسلی نہ ہو تو وہ بہر حال خدا کا کلام مقدم کرے اور عقل اور جذبات ان کے ماتحت کرے یہی گر ہے جس سے پہلی روحانی جماعتیں کامیاب ہو ئیں۔اور یہی گر ہے جس سے اب ہماری جماعت ترقی کر سکتی ہے۔وہ لوگ جو اپنے دماغوں میں فلسفیانہ خیالات رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالٰی کے کلام پر اعتراض کرتے اور اپنی عقل کو اس پر حاکم بنانا چاہتے ہیں اگر وہ قرآن مجید کو اپنے لئے خضر راہ نہیں بناتے تو وہ قوم کے لئے طاعون کے کیڑوں سے کم نہیں۔اور وہ جتنا جتنا پھیلیں گے اتنا ہی جماعت کو نقصان پہنچے گا۔اور جتنے کم ہوں گے اور جتنی جلدی کم ہوں گے اتنا ہی زیادہ اس میں فائدہ ہے۔ہمیں اللہ تعالٰی سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے اور اس امر کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ اللہ تعالٰی کے الہام کو اپنی عقل پر مقدم رکھیں اور اگر کسی وقت انکی ناقص عقلیں اللہ تعالیٰ کے کلام کے مقابلہ میں آجائیں تو وہ سمجھ جائیں کہ یہ ان کی عقل کی کوتاہی ہے۔ورنہ خدا کی باتیں بالکل سچ ہیں۔متی باب ۱۰ آیت ۳۴ تا ۳۶ مطبوعه ۱۹۰۸ء ( مفهوماً) بنی اسرائیل : ۱۷ الفضل ۲۴ - ایریل ۱۹۳۲ء)