خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 404

خطبات محمود سال ۳۲ خدا تعالی کی طرح ہماری نظر سب طرف نہیں ہوتی لیکن جب کوئی اچھا کام کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف سے بھی غافل نہیں ہوتے۔یہ نہیں کہ روزہ رکھا تو ذکر الہی چھوڑ دیا یا ز کو ۃ ادا کی تو حج نہ کیا۔یا اگر حج کو گئے تو زکوۃ ادا نہ کی بلکہ دین کے مکان کی چاروں دیواریں بناتے ہیں تو اس وقت ہم تَخَلَّفُوا بِاخْلَاقِ اللهِ پر عمل کرتے ہوئے چاروں طرف دیکھنے والے ہوتے ہیں۔پس میں جماعت کو جب ایک کام کی نصیحت کرتا ہوں تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ دو سرے کام چھوڑ دیئے جائیں۔اس سال ہماری جماعت سے ایک غلطی ہو رہی ہے۔اور وہ یہ کہ تبلیغ کی طرف اتنی توجہ نہیں جتنی پچھلے سال تھی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ میں نے اس سال میں بعض اور امور کی طرف توجہ دلائی تھی۔حالانکہ انہیں کرنے کے لئے کہنے سے میرا یہ مطلب ہر گز نہ تھا کہ دوسرے چھوڑ دیئے جائیں۔ہمیں تَخَلَقُوا بِاخْلَاقِ اللہ کا حکم ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات اپنے اندر پیدا کریں۔اور اللہ تعالیٰ جب ایک کام کرتا ہے تو دوسری طرف بھی اس کی توجہ ہوتی ہے۔میں مانتا ہوں کہ یہ تربیت کا ایک اہم حصہ ہے کہ ہم محبت سے رہیں۔اور یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کے متعلق جو خطبات پڑھے ہیں وہ بھی ضروری ہیں۔مگر اسکے یہ معنی ہر گز نہیں کہ ہم اس اہم چیز کو چھوڑ دیں جس پر دنیا کی ترقی اور نجات کا دار و مدار ہے اور وہ تبلیغ ہے۔بہت سے لوگ غفلت اور نادانی کی وجہ سے یہ خیال کرتے ہیں کہ تربیت تبلیغ سے زیادہ اہم ہے۔مگر یہ غلط ہے۔تربیت دراصل انسان کے اپنے نفس سے تعلق رکھتی ہے۔مگر تبلیغ میں وہ دو سرے کا محتاج ہوتا ہے۔جب بھی کوئی شخص سچائی کو قبول کرے گا تو اس کا زیادہ باعث دوسروں کی باتیں ہوں گی۔ایک نو مسلم سے دریافت کرو تو معلوم ہو گا کہ اسے بہت سے لوگوں نے تبلیغ کی لیکن تربیت کی خواہش اپنے نفس سے پیدا ہوتی ہے۔اور جس عمدگی سے ایک انسان اپنی تربیت خود کر سکتا ہے دوسرے نہیں کر سکتے۔دوسرے صرف ایک ڈھانچہ تیار کرتے ہیں۔ایک برتن مہیا کرتے ہیں لیکن اس میں رکھنے والی چیز انسان کے اپنے اندر سے آتی ہے۔تربیت کے احساسات انسانی قلب کے اندر موجود ہوتے ہیں۔پس تربیت کے لئے دوسروں کا یاد دلانا اتنا ضروری نہیں جتنا تبلیغ کے لئے ضروری ہے۔تبلیغ یہ ہے کہ اسے یقین دلا دیا جائے کہ دنیا میں ایک کچاند ہب موجود ہے جو اسے نجات کی طرف لے جائے گا۔اور جب وہ بچے مذہب میں داخل ہو جائے گا تو تربیت کا احساس خود بخود پیدا ہونے لگے گا۔اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ تربیت