خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 403

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء اور اگر چہ پھر بھی وہ شرم کی وجہ سے صلح نہیں کرتے لیکن خواہش ضرور رکھتے ہیں کہ کاش کوئی درمیان میں پڑ کر صلح کرا دے۔بظاہر وہ لڑے ہوئے ہوتے ہیں لیکن دل محبت کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں۔اور انہیں دنیا پر شکوہ ہوتا ہے کہ کیوں کوئی ہماری صلح نہیں کرا دیتا۔پس اس قرض کی ادائیگی کوئی مشکل امر نہیں۔بہت کم لوگ ہوں گے جن کے دلوں میں بغض اور کینہ اس حد تک بھرا ہوا ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی خشیت کو ترک کر کے اس کے ذکر پر بھی صلح پر آمادہ نہ ہوں۔لیکن چونکہ اس قرض کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں کی جاتی یہ جمع ہو تا رہتا ہے حتی کہ دل پر زنگ لگ جاتا ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کے فضل سے محروم ہو جاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندوں کے اور بھی بہت سے قرضے ہیں جو آسانی سے ادا کئے جاسکتے ہیں، مگر افسوس کہ اس طرف توجہ نہیں کی جاتی۔اسی سلسلہ میں دوستوں کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ مؤمن چوکس ہوتا ہے۔اس کی نگاہ ایک ہی طرف نہیں بلکہ چاروں طرف ہوتی ہے۔مومن کو حکم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات حاصل کرے اور اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات اسی رنگ میں انسان کے اندر پیدا نہیں ہو سکتیں جس طرح خدا تعالیٰ کی ہیں۔لیکن تمام بزرگان دین اس بات پر متفق ہیں کہ اصل اسلام تَخَلَقُوا بِاخْلَاقِ اللهِ ہے یعنی اللہ تعالی کی صفات اپنے اندر پیدا کرنا اور پھر اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ خدا تعالیٰ کی مانند کوئی چیز نہیں۔پس ایک طرف تو یہ حکم ہے کہ اللہ تعالی کے اخلاق پیدا کرو اور دوسری طرف یہ ارشاد ہے کہ خدا جیسی کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی۔اور ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی غلط نہیں کیونکہ ایک تو یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور دوسرے میں خدا تعالیٰ کے کلام سے مشابہ باتیں ہیں۔اور اس صداقت کو رسول کریم میں ہم نے قبول فرمایا ہے۔جب دونوں باتیں صحیح ہیں تو مانا پڑے گا کہ کوئی درمیانی راہ موجود ہے جس میں انسان خدا تعالیٰ کی مانند ہو بھی جاتے ہیں اور پھر نہیں بھی ہوتے۔اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے۔دائیں بائیں آگے پیچھے اوپر نیچے۔ماضی، حال، مستقبل سب پر اس کی نظر ہے۔لیکن ہم نہ تو بغیر آنکھوں کے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہماری آنکھیں سب طرف دیکھ سکتی ہیں۔ہاں ایک اور قسم کی آنکھیں ہیں جن سے ہم بھی ہر طرف دیکھ سکتے ہیں۔اور وہ عقل کی آنکھیں ہیں۔ظاہری آنکھوں سے تو ہم تُخَلَّفُوا بِاَخلاقِ اللہ پر عمل نہیں کر سکتے مگر باطنی سے کر سکتے ہیں اور چاروں طرف دیکھ سکتے ہیں۔پھر جب ہم کوئی کام خواہ وہ اچھا ہو یا برا اختیار کر سکتے ہیں۔اور پھر اسی میں منہمک ہو جاتے ہیں۔تو گویا خدا جیسا ہونے سے خود انکار کرتے ہیں۔کیونکہ